29 مئی 2012 - 19:30

ایک فرانسیسی روزنامے نے قطر کے اس سرمایہ دار کے نام کا انکشاف کیا ہے جو شام میں مسلح دہشت گرد ٹولوں کو مالی اور فوجی امداد فراہم کررہا ہے اور اس امداد کو "انسانی امداد" کا نام دے رہا ہے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق فرانسیسی روزنامے لو فیگارو (Le Figaro) نے اپنی رپورٹ کے ضمن میں لبنان کے شمالی شہر "طرابلس" کے راستے شام میں القاعدہ اور سلفی دہشت گرد ٹولوں کے لئے افرادی اور مالی و فوجی امداد کی رسد کے حوالے سے اہم انکشافات کئے ہیں۔

اس روزنامے نے انکشاف کیا کہ شام میں حکومت کے خلاف برسر پیکار مسلح دہشت گرد گروپوں کے پانچ اراکین فرانسیسی باشندے ہیں جو فرانس سے بیروت آئے اور وہاں سے شمالی شہر طرابلس چلے گئے لیکن لبنان کی ملٹری انٹیلی جنس نے ان کا سراغ لگایا اور انہیں گرفتار کرکے فرانسیسی سفارتخانے کے حوالے کیا اور فرانسیسی سفارتخانے نے انہیں فرانس لوٹا دیا۔

فرانسیسی روزنامے نے کہا: حال ہی میں شامی فوج نے ان میں سے متعدد مسلح دہشت گردوں کو ہلہک کردیا اور شامی فوج نے اعلان کیا کہ ہلاک ہونے والے بیرونی دہشت گردوں میں تین تیونس، اردن اور مصر کے باشندے تھے جبکہ تین دوسرے فرانس، آسٹریا اور برطانیہ کے باشندے تھے جو باباعمرو نامی شہر میں سرکاری کاروائی کے دوران ہلاک ہوگئے ہیں۔

لو فیگارو نے لکھا کہ شامی حکومت کے خلاف برسرپیکار گروپوں میں ایک گروپ کا تعلق لیبیا سے ہے جس کی مالی اور فوجی حمایت قطر کی حکومت کررہی ہے اور قطر کے حمایت یافتہ لیبیائی دہشت گرد شامی حکومت کے خلاف لڑنے والے مسلح گروپوں میں سب سے بڑے گروپ کو تشکیل دے رہے ہیں۔ ان افراد کو "لیبیائی رضاکاروں" کا نام دیا گیا ہے جن کے ساتھ بعض لبنانی، کویتی، سعودی اور "پاکستانی" دہشت گرد بھی حکومت شام کے خلاف لڑ رہے ہیں اور تھوڑی سی تعداد الجزائریوں کی ہے جو ترکی کے ایک سرحدی گاؤں میں تعینات ہیں۔

فرانسیسی روزنامے نے لکھا ہے کہ بعض عراقی مسلح عناصر نے بھی شام میں داخل ہوکر حکومت کے خلاف لڑنے کی کوشش کی لیکن شامی قبائل نے ان کا تعاقب کیا اور انہیں شام میں نہیں گھسنے دیا۔

لوفیگارو نے انکشاف کیا ہے کہ قطری سرمایہ دار "عبدالرحمن النعیمی" سمیت علاقے کے کئی عرب سرمایہ دار "انسانی امداد" کے بہانے طرابلس میں تعینات شام مخالف مسلح گروہوں کی پشت پناہی کررہے ہیں۔

یاد رہے کہ شام میں ایک دہشت گرد گروپ "حمد بن جبر آل ثانی گروپ" کے نام سے دہشت گردی کررہا ہے اور یہ بات سب کو معلوم ہے کہ قطر ان گروپوں کی مدد کررہا ہے لیکن ایسے قطری شخص کا نام پہلی بار سامنے آرہا ہے جو کسی دہشت گرد گروپ کی براہ راست سرپرستی کرتا ہے اور دہشت گردوں کو اجرت دیتا ہے۔

اس روزنامے نے طرابلس میں عین گواہوں کے حوالے سے لکھا: اگر شام میں کوئی شخص بم دھماکہ کرنے میں کامیاب ہوجائے تو اس کے اہل خانہ کو بہت بڑی رقم ادا کی جاتی ہے اور ہر سلفی فرد کو شام کی حکومت کے خلاف جنگ کے لئے ماہانہ 200 امریکی ڈالر ادا کئے جاتے ہیں۔ لوفیگارو نے اس امریکی تشویش کا بھی حوالہ دیا کہ لبنان کے شمالی شہر طرابلس سے لے عراق کے صوبے الانبار تک ایک دہشت گرد تکون کی تشکیل کا خدشہ موجود ہے گوکہ روزنامے نے یہ نہیں لکھا کہ اگر امریکہ کو ایسی کوئی تشویش ہے اور اگر یہ دہشت گرد امریکی مفاد کے خلاف کام کررہے ہیں تو پھر امریکیوں کی طرف سے ان دہشت گردوں کی ہمہ جہت حمایت کا کیا جواز ہے؟ ........

/169

تفصیل کے لئے رجوع کیجئے:

وہابی صہیونیوں کا نیا کارنامہ؛شام میں ایک ہی رات میں 114 افراد کا قتل عام