ابنا: بلوچستان نیشنل پارٹی اور ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کی قیادت نے فرقہ وارانہ ٹارگٹ کلنگ اور بلوچ کارکنوں کی مسخ شدہ لاشیں پھینکنے کے واقعات کو بلوچستان دشمنی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان دشمن قوتیں بلوچستانیوں کی سیاسی جدوجہد سے خوفزدہ ہیں۔ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت بلوچستان کو خانہ جنگی کی جانب دھکیلا جا رہا ہے۔ ان سازشوں کو ناکام بنانے کے لئے تمام سیاسی و جمہوری قوتوں کو مشترکہ جدوجہد کرنا ہوگی۔ ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین عبدالخالق ہزارہ کی قیادت میں وفد نے دوبئی میں بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر جان مینگل سے ملاقات کی۔ وفد میں ایچ ڈی پی کے سیکرٹری جنرل احمد علی کوہزاد اور محمد رضا وکیل بھی شامل تھے۔ جبکہ بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل جہانزیب جمالدینی بلوچ، عبد الروف مینگل، اختر حسین لانگو و دیگر ملاقات میں شریک تھے۔دونوں جماعتوں کے قائدین کے مابین ہونے والی ملاقات میں عالمی سیاسی صورتحال، بلوچستان کے حالات، کوئٹہ شہر میں فرقہ واریت کے نام پر مسلط کردہ دہشتگردی سمیت کئی اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ بی این پی کے سربراہ سردار اختر جان مینگل نے اس موقع پر ہزارہ قوم کے فرزندوں کی ٹارگٹ کلنگ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستانی معاشر ے میں کو ایک سازش کے تحت فرقہ واریت کی طرف لے جایا جارہا ہے تاکہ صوبے کے عوام کے حقوق کی جدوجہد کو سبوتاژ کرکے صوبے کو فرقہ واریت اور مذہبی جنونیوں کے ذریعے خانہ جنگی کی طرف لے جایا جائے۔انہوں نے کہا کہ ہزارہ قوم نے صوبے کی تعمیر و ترقی میں جس طرح کا کردار ادا کیا ہے، اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ بلوچستان میں ہزارہ قوم کو اتنا ہی حق حاصل ہے جنتا کہ دوسری آباد اقوام کو حاصل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے حقوق کی جدوجہد ہو یا قومیتوں کے استحصال کرنے والی قوتوں کے خلاف جدوجہد ہزارہ قوم نے سرزمین اور خاک سے اپنی وابستگی کا عملی ثبوت دیا۔ اسی وجہ سے فرقہ واریت، مذہبی جنونیت اور انتہاء پسندی کو ریاستی اداروں کی سرپرستی میں فروغ دے کر ہزارہ قوم کے فرزندوں کا قتل عام شروع کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ گھنائونے عمل کے تحت دونوں اقوام میں غلط فہمیاں پید اکرکے انہیں ایک دوسر ے کے خلاف صف آرا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، مگر بلوچ اور ہزارہ سیاسی کارکنوں نے اس سازش کا بر وقت ادراک کرکے قومیتوں میں دوریاں پیدا کرنے کی کوشش کو ناکام بنادیا۔ اس وقت ہر بلوچ اور ہزارہ کومعلوم ہے کہ کونسی قوتیں امن وامان خراب کرنے میں ملوث ہیں۔ اس موقع پر ایچ ڈی پی کے چیئرمین عبد الخالق ہزارہ نے بلوچستان میں جاری آپریشن کی بھر پور الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے مسخ شدہ لاشیں ملنے کے عمل کو انسانیت سوز اور وحشیانہ اقدام قرار دیا۔انہوں نےکہاکہ ایک سازش کے تحت بلوچ سیاسی کارکنوں کی ماروائے آئین گرفتاریاں اور انہیں لاپتہ کرنے کا اقدام ثابت کرتا ہے کہ بعض قوتیں صوبے کے حقوق کی جدوجہد کرنے والی سیاسی قوتوں سے خائف ہیں اور وہ نہیں چاہتیں کہ صوبے کے عوام کو ان کے وسائل پر اختیار حاصل ہو۔ انہوں نے کہا کہ اسی وجہ سے بلوچ علاقوں میں آپریشن کیا جارہا ہے اور کوئٹہ میں فرقہ واریت کے نام پر ہزارہ قوم کی نسل کشی کے ذریعے اقوام کے درمیان دوریاں پیدا کرنے کی سازش کی گئی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔
/110