ابنا: جماعت اسلامی پاکستان کے سابق مرکزی امیر قاضی حسین احمد نے کہا ہے کہ امت مسلمہ جذبہ جہاد کو ایک دوسرے کی بجائے دشمن کے خلاف استعمال کرے، ملی یکجہتی کونسل کے ذریعے اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات پر عمل کرانے کیلئے تحریک چلانے کا عہد کیا گیا ہے، عوام ان کوششوں میں ہمارا ساتھ دیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پشاور میں منعقدہ بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا، ان کا مزید کہنا تھا کہ جب تک ہمارے مقصد کا ایک مرکز نہیں ہوگا ہم منتشر رہیں گے، اسلامی حکومت کا قیام دنیاوی نہیں بلکہ سنت نبوی (ص) ہے، ہمیں کامیابی کیلئے نبی کریم (ص) کا بتایا ہوا راستہ اختیار کرنا ہوگا، اس کے علاوہ کوئی راستہ نہیں، انہوں نے کہا کہ کسی امتی کیلئے کسی مسلک کی تبلیغ کرنا جائز نہیں، بلکہ اللہ تعالٰی کی بندگی اور توحید کی تبلیغ کرنی چاہئے۔ان کا کہنا تھا کہ نبی کریم (ص) کسی کی بربادی کیلئے نہیں بلکہ انسانیت کی فلاح کیلئے آئے تھے، جب ان کا نظام آئے گا تو یہ کھوکھلے نظام ازخود برباد ہو جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر مسلک کے اپنے عقائد ہوتے ہیں، لیکن ہمارے درمیان نماز پڑھنے کے طریقوں اور دعا مانگنے کے سلیقوں پر اختلاف پیدا کیا جاتا ہے۔ قاضی حسین احمد نے کہا کہ ہمارے درمیان مشترکات زیادہ ہیں، اللہ ایک، کعبہ ایک، نبی کریم (ص) ایک، کلمہ ایک تو اختلاف کیسا؟ لہٰذا ہمیں اختلافات کی بجائے مشترکات کو فروغ دینا ہوگا۔ جماعت اسلامی کے سابق امیر نے کہا کہ ملی یکجہتی کونسل کے ذریعے اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات پر عمل کرانے کیلئے تحریک چلانے کا عہد کیا گیا ہے، عوام ان کوششوں میں ہمارا ساتھ دیں۔انہوں نے کہا کہ تمام علماء اور دینی رہنمائوں کو اپنی محفلوں میں بھی اس قسم کا اتحاد و وحدت کا درس دینے کی ضرورت ہے، جس کا مظاہرہ آج اس مجلس میں ہوا، انہوں نے کہا کہ امت مسلمہ میں اتنا جذبہ موجود ہے جس کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا، جذبہ جہاد اور شوق شہادت پر کوئی اسلحہ غالب نہیں آسکتا، تاہم اس جذبہ جہاد کو ایک دوسرے کے خلاف استعمال کرنے کی بجائے دشمن سے مقابلہ کیلئے استعمال کیا جائے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/110