ابنا: مصر کے مقامي وقت کے مطابق بارہ بجے تحرير اسکوائر سے اٹارني جنرل کے دفتر تک مظاہر کيا گيا جس ميں شريک لوگوں نے حسني مبارک حکومت کے آخري وزير اعظم احمد شفيق کے خلاف کي گئي شکايات کا پھر سے جائزہ ليے جانے کا مطالبہ کيا-دريں اثنا مصر کي اعلي انتخابي کميٹي نے اعلان کيا ہے کہ اميدواروں کي جانب سے انتخابات کے سلسلے ميں کي جانے والي شکايات کا جائزہ ليا جا رہا ہے-
مصر کے سرکاري ٹي وي نے پير کے روز رپورٹ دي ہے کہ صدارتي انتخابات ميں حصہ لينے والے تين اميدواروں حمدين صباحي، عبدالمنعم ابوالفتوح اور عمرو موسي نے انتخابات کے انعقاد کے طريقہ کار کے بارے ميں شکايات پيش کي ہيں-
مصر کے صدارتي انتخابات کے غير سرکاري نتائج کے مطابق اخوان المسلمين کے اميدوار محمد مرسي کو سب سے زيادہ ووٹ ملے ہيں جبکہ حسني مبارک حکومت کے آخري وزيراعظم احمد شفيق کو دوسرا مقام حاصل ہوا ہے جس پر مصر ميں ہر کسي کو تعجب ہے-مرسي اور شفيق انتخابات کے دوسرے مرحلے ميں ايک دوسرے کے سامنے ہوں گے- ان دونوں کے بعد حمدين صباحي کو بيس فيصد، ابوالفتوح کو اٹھارہ فيصد اور عمرو موسي کو بارہ فيصد وووٹ حاصل ہوئے ہيں- ان انتخابات ميں اکاون فيصد لوگوں نے اپنے حق رائے دہي کا استعمال کيا-
.......
/169