ابنا: لبنانی وزیراعظم نجیب میقاتی کے دفتر نے لبنانی شہریوں کی شام میں رہائی کے بعد ترکی کے سرحدی علاقے میں پہنچنے کی تصدیق کی ہے اور ترک وزیرخارجہ احمد داؤد اوغلو نے وزیراعظم کو ٹیلی فون کرکے بتایا ہے کہ لبنانی یرغمالیوں کی رہائی کے بعد صحت بہتر ہے اور انھیں بیروت روانہ کیا جارہا ہے۔
قبل ازیں لبنانی یرغمالیوں کی رہائی کے لیے ثالثی کرنے والے ایک شامی عالم دین شیخ ابراہیم الزوبی نے بتایا تھا کہ 'اللہ نے چاہا تو انھیں جلد رہا کردیا جائے گا'۔فوری طور پر یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ ان لبنانیوں کی کن شرائط کے تحت رہائی عمل میں آئی ہے اور انھیں شام کے کس گروپ نے اغوا کیا تھا۔
شامی فوج کے ترجمان کرنل قاسم سعدالدین نے اس سے پہلے ایک بیان میں کہا تھا کہ 'ان کی قیادت لبنانی یرغمالیوں کا سراغ لگانے اور ان کی رہائی کے لیے ہرممکن کوشش کررہی ہے'۔ انھوں نے لبنانیوں کے اغوا کی مذمت کی۔
لبنانی تیرہ اہل تشیع افراد کو کو شام کے شمالی صوبہ حلب میں اغوا کرلیا گیا تھا۔وہ پڑوسی ملک ایران میں مقدس مقامات کی زیارت کے لیے گئے تھے اور وہ وہاں سے ترکی اور شام کے راستے واپس لبنان آرہے تھے۔
ان کے اغوا کی اطلاع ملتے ہی لبنان کے دارالحکومت بیروت کے شیعہ آبادی والے جنوبی علاقے میں ہزاروں افراد نے مظاہرہ کیا اور ان کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا۔
لبنان کی شیعہ تنظیم حزب اللہ کے سربراہ شیخ حسن نصراللہ نے شہریوں سے پُرامن رہنے کی اپیل کی اور اُن زوردیا تھا کہ وہ لبنان میں مقیم شامی مہاجرین پر انتقامی حملے نہ کریں۔.......
/169