ابنا: آیت اللہ سید احمد خاتمی نے اپنے ایٹمی حقوق کے دفاع میں اسلامی جمہوریہ ایران کی حکمت عملی کو دانشمندانہ قراردیتے ہوئے کہا کہ ملت ایران پرامن ایٹمی انرجی کے حصول کو اپنا مسلمہ حق سمجھتی ہے اور اپنے حقوق کے حصول کے لئے بھرپور کوشش کرے گي۔
انہوں نےتین برسوں قبل ایٹمی ایندھن فراہم کرنے کے سلسلے میں مغرب کی وعدہ خلافی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ مغرب نے ہم سے کہا تھا کہ وہ یورینیم کی افزودگي روکنے کے عوض ہمیں ایٹمی ایندھن دے گا لیکن اس نے وعدہ خلافی کی لھذا ہم نے اپنے ماہرین کی مدد سے یورینیم کو افزودہ کرنے میں بھی کامیابی حاصل کرلی۔
خطیب جمعہ تہران نے کہا کہ رہبرانقلاب اسلامی کے فتوے کے مطابق ایران میں ایٹم بم بنانا حرام ہے اور ایران نے اپنی ایٹمی سرگرمیوں کو پرامن ثابت کرنے کے لئے بارہا ایٹمی انرجی کے معائنہ کاروں کو اپنی ایٹمی سائٹوں کا معائنہ کرنے کی اجازت دی ہے اور انہیں ایسا کوئي ثبوت نہیں ملا ہے جس سے ایران کی ایٹمی سرگرمیوں کا فوجی مقاصد کے لئے ہونا ثابت ہوتاہو۔
انہوں نے کہا کہ اب پانچ جمع ا یک کی باری ہے کہ وہ اعتماد سازی کے اقدامات کرے اور یہ ثابت کرے کہ وہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں صیہونیزم اور سامراج کے اھداف کے درپئے نہیں ہے۔
آيت اللہ سید احمد خاتمی نے مصر میں صدارتی انتخابات کے بارے میں کہا کہ مصر کی بابصیرت قوم کو تیس برسوں بعد اپنا حق خودارادیت استعمال کرنے کا موقع ملا ہے اور امید ہے کہ مصر کا آئندہ کا صدر اخلاقی اور اسلامی اقدار کا پابند ہوگا اور مصر کو ترقی دلانےکی کوشش کرے گا۔
خطیب جمعہ تہران نے جمہوریہ آذربائیجان کی حکومت کی اسلام مخالف پالیسیوں پر خبردار کرتے ہوئے کہاکہ حکومت باکو ان پالیسیوں سے پرہیز کرے ورنہ آذربائیجان کی مسلمان قوم اسے سرنگوں کردے گي۔
خطیب جمعہ تہران نے سعودی عرب سے بحرین کے الحاق کے منصوبے کو ملت بحرین کےحق میں خیانت سے تعبیر کرتےہوئے کہا کہ بحرین کے غیرت مند عوام اس بات ہرگز اجازت نہیں دیں گے کہ ان کے ملک کو غارت کیا جائے اور وہ بھرپور استقامت کا ثبوت دیتےہوئے مکمل کامیابی تک سامراجی اور ظالمانہ پالیسیوں کا مقابلہ کریں گے۔ .....
/169