ابنا: حال ہی میں ایک ویب میگزین میں مضمون شائع ہوا ہے جس میں شیعہ مکتب کے پیروکاروں کے خلاف ہرزہ سرائی کی گئی ہے اور جس میں مجلس و حدت مسلمین ،شیعہ علماء کونسل اور دیگر شیعہ تنظیموں کے خلاف گفتگو کی گئی ہے اور مکتب اہلبیت پر تنقید کی گئی ہے ۔
مذکورہ مضمون سے لگ رہا ہے کہ پاکستان میں مکتب تشیع کے خلاف ایک باضابطہ مہم کاآغاز کیا جارہا ہے اور اس جنگ میں دشمنان اہلبیت نے شیعہ قائدین اور علماء کے خلاف الزامات میں اپنی روایت کے مطابق مبالغہ آرائی کی ہے
مذکورہ ویب آرٹیکل میں مصنف نے اسلام آباد میں مساجد و امام بارگاہوں کی تعمیرات پر تنقید کی ہے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مصنف شیعہ فو بیا کا شکار ہے یا پھر دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ ہمفکری کے ناطے عوام کی سوچ ہزاروں مشکلات اور حقیقی مسائل سے ہٹا کر شیعہ فوبیا میں مبتلا کررہا ہے۔ اسی لیے تو اس نے مساجد و امام بارگاہوں اور دینی مدارس پر تنقید کی ہے ۔
مذکورہ آر ٹیکل میں جو مطالبات پیش کئے گئے ہیں وہی کالعدم تنظیموں کے پرانے مطالبات ہیں جو نہ تو پاکستان کے آئین سے مطابقت رکھتے ہيں، نہ ہی آئین میں شامل اسلامی شقوں کے موافق ہيں اور نہ ہی پاکستان کی سالمیت اور عظیم تر مفادات کا ان میں لحاظ رکھا گیا ہے۔
یہ مطالبات ایسے حال میں سامنے آرہے ہیں کہ شیعہ دشمن اور ملک دشمن کالعدم دہشت گرد ٹولے کالعدم در کالعدم ہوتے ہوئے پاکستان میں سرگرم عمل ہیں، جلسے جلوس کرتے ہیں، دھماکے اور حملے کرتے ہيں اور دہشت گردی کے ریکارڈ قائم کررہے ہيں اور جرم کے لئے سزا کے تمام قوانین بحق دہشت گردی معطل ہونے کی بنا پر یہ ٹولے نہ صرف فعال ہیں بلکہ حکومت کے کئی بڑے بڑے نام اور حکومت پنجاب کے ضیاء پولیٹکلائزڈ انڈسٹریل فیملی کے بزرگ اور بھارت زندہ باد کے نعرے لگانے والے سابق سربراہ حکومت جیسے لوگ ان کے ساتھ ہیں اور ان ٹولوں کے کے کئی کئی سو قتلوں میں ملوث افراد کو جیلوں سے رہا کروا چکے ہیں اور "آزاد عدلیہ" بھی مسلسل ان کے سرغنوں کو بری کررہی ہے حالانکہ دنیا کے چھوٹے سے چھوٹے ملک میں بھی اس طرح کی صورت حال دیکھنے کو نہیں ملتی کہ پاگلوں کو ہتھیار دیا جائے اور انہيں آزاد چھوڑ دیا جائے اور ان کو تحفظ دیا جائے اور عوام کے ہاتھ پاؤں باندھ لئے جائيں کیونکہ یوں تو انارکی ہوگی اور پاگلوں کی مرضی اور حکومتوں کی لاپرواہی کی وجہ سے ملکوں کے ملک تباہ ہوجائیں گے اور یہ وہی اندیشے ہیں جو ہم سب کو اپنے ملک کے حوالے سے لاحق ہیں۔
چنانچہ باربار دہشت قرار دے کر کالعدم کئے جانے والے گروہ سپاہ صحابہ،لشکر جھنگوی ،اور نام بدل کر آنے والے ایسے دہشت گرد گروہوں کی سر گر میاں غیر قانونی اور غیر اسلامی اور غیر انسانی ہیں چنانچہ حکومت پاکستان پر یہ فرض ہے کہ وہ شیعہ مخالف مذکورہ پراپیگنڈا مہم کا فوری طور پر تدارک کرے اور ان گروہوں کے کالعدم ہونے کے ملزومات کو ملحوظ رکھ کر ان گروہوں کو میڈیا اور میدان سیاست اور دیگر شعبوں میں سرگرمیوں سے روک دے۔
.......
/169
مضمون درحقیقت شیعت نیوز سے ماخوذ ہے اور اس میں (معذرت کے ساتھ) بعض جملوں کا اضافہ کیا گیا ہے۔