19 مئی 2012 - 19:30

امریکی اخبار میں اپنے مضمون میں امریکا میں پاکستانی سفیر نے مطالبہ کیا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ بڑھایا جائے۔ ڈرون حملے بند کئے جائیں اور امریکا پاکستان کو اپنی منڈیوں تک زیادہ رسائی دے۔

ابنا: امریکا میں پاکستانی سفیر شیری رحمان نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ جیتنے کے لئے اتحادیوں کے درمیان الفاظ کی جنگ ختم کرنا ہو گی، امریکا سلالہ حملے پر معافی مانگے تو تعلقات بہتر ہو سکتے ہیں۔ شیری رحمان نے امریکی اخبار میں اپنے مضمون میں مطالبہ کیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ بڑھایا جائے۔ ڈرون حملے بند کئے جائیں اور امریکا پاکستان کو اپنی منڈیوں تک زیادہ رسائی دے۔ انہوں نے کہا کہ دو کروڑ سے زیادہ فوج رکھنے والے 46 ممالک دہشت گردوں کو افغانستان تک محدود نہیں کر سکے جبکہ پاکستان سے دہشت گردوں کا خاتمے کرنے کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔ سوات، باجوڑ اور مہمند سے بھاگنے والے شدت پسندوں نے افغانستان میں پناہ لی ہوئی ہے۔ خبر رساں ادارے کے مطابق سفیر شیری رحمن نے کہا ہے کہ امریکی کانگریس میں بلوں پر بحث پاک امریکہ تعلقات کا تعین کرے گی تعلقات کی بحالی کیلئے امریکہ کو سلالہ حملے پر معافی مانگنا ہو گی واشنگٹن سے جاری ایک بیان میں شیری رحمن نے کہا کہ امریکہ ایکشن سپورٹ فنڈ کے واجبات ادا کرے اور ڈرون حملے بند کرے ڈرون حملے نہ صرف پاکستان کی خودمختاری کے خلاف ہیں بلکہ ان سے دہشت گردی کے خلاف جنگ کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی کانگریس میں پاکستان کے حوالے سے بلوں پر بحث پاک امریکہ تعلقات کا تعین کرے گی۔......./169