ابنا: دریں اثنا بحرین میں آل خلیفہ حکومت کے اہم ترین مخالف دھڑے جمعیت الوفاق نے ایک بیان میں اپنے ملک کے حکام کو ایسے منصوبوں پر سخت خبردار کیا ہے جو بحرین کی آزادی اور قومی حاکمیت کے منافی ہیں ۔ اس بیان میں تاکید کی گئي ہے کہ بحرین ایک عرب ۔ اسلامی اور آزاد ملک ہے جسکے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق صرف بحرین کے ہی شیعہ و سّنی مسلمانوں کو حاصل ہے اور یہ کہ کسی بھی ملک سے بحرین کے الحاق کے بارے میں ریفرینڈم کرائے جانے کی ضرورت ہے ۔
بحرین کی جمعیت الوفاق نے سعودی عرب سے بحرین کے الحاق کے بارے میں بھی کہا ہے کہ یہ منصوبہ اس کے ملک کے سماج و معاشرے کو تباہ کرنے کی غرض سے پیش کیا گیا ہے ۔ جمعیت الوفاق کے اس رّد عمل کے موقع پر بحرین کے عوام نے بھی اپنے ملک کے مختلف علاقوں میں مظاہرے اور سعودی عرب سے بحرین کے الحاق کے منصوبے کو مسترد کرتے ہوئے آل خلیفہ حکومت کے خلاف شدید نعرے لگائے ۔ کل بحرین کے مختلف شہروں منجملہ منامہ ۔ سترہ ۔ الدراز ۔ اسکان ۔ اور المصلی میں آل خلیفہ حکومت کے خلاف زبردست عوامی مظاہرے ہوئے ۔ ان مظاہروں میں بحرینی عوام نے مختلف قسم کے مطالبات منجملہ جیلوں سے خواتین قیدیوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ۔
چودہ فروری کے اتحاد نے بحرینی عوام سے اپیل کی تھی کہ وہ آل خلیفہ حکومت کی جیلوں میں بند خواتین قیدیوں سے اظہار یکجہتی کیلئے آزادوں کی غیرت کے زیر عنواں مظاہرے میں شرکت کریں ۔ بحرینی عوام کے اس مظاہرے کو آل خلیفہ حکومت کی سیکیورٹی فورسیز نے اپنے وحشیانہ تشّدد کا نشانہ بنایا تاہم موصولہ رپورٹوں سے پتہ چلتا ہے کہ شہر منامہ میں مظاہرے کی صورت حال ایسی تھی کہ شہر کے تمام اہم راستے بند کرنا پڑے اور مظاہرین نےکہ جن میں زیادہ تر جوان افراد شامل تھے راستوں میں ٹائر جلائے اور منامہ کے بین الاقوامی ایر پورٹ اور اسی طرح وزارت عظمی کی عمارت کی طرف جانے والے راستے مسدود کردئے ۔ کل کے مظاہرے کی ایک خاص بات یہ رہی کہ شہر منامہ کے جوانوں نے ملک فہد نامی اس پل کو بھی بند رکھا جو بحرین کو سعودی عرب سے ملاتا ہے اور اس اقدام نے آل خلیفہ حکومت کو خوف زدہ کردیا جیساکہ منامہ کے جوانوں کے اس اقدام کے بعد پل کے اطراف میں سیکیورٹی کے افراد کو چوکس کردیا گیا اور انھوں نے مظاہرین کے مقابلے میں صف آرائی بھی کی ۔
بحرین کی حکومت کی جانب سے یہ کاروائی ایسی صورت میں عمل میں آئی کہ اس وقت بھی آل خلیفہ حکومت پر عوامی مطالبات کو نظر انداز اور پرامن مظاہروں کو وحشیانہ طریقے سے کچلنے جیسے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے الزامات عائد ہیں ۔ بحرین کے رکن پارلیمنٹ علی شمطوط نے،جو بحرینی قوم کے طرفدار ہیں احتجاج کرنے والے عوام کے خلاف آنسو گیس اور ربڑ کی گولیوں کے استعمال کی بناء پر منامہ حکومت پر کڑی تنقید کی ہے اور انسانی حقوق کے سرگرم عمل کارکنوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے ۔
جس سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بحرین میں آل خلیفہ حکومت کی جارحانہ پالیسیوں کے خلاف جاری احتجاجات کا دائرہ اب شہروں کی سڑکوں سے پارلیمینٹ ہاؤس تک پھیل گیا ہے ۔ جیساکہ موصولہ رپورٹوں سے پتہ چلتا ہے کہ بحرین کے بعض اراکین پارلیمنٹ نے گذشتہ چند دنوں کے دوران بے گناہوں پر تشّدد اور ان کی گرفتاریوں پر اپنی مخالفت کے اظہار کیلئے پارلیمنٹ میں ایسے پلے کارڈز نصب کئے کہ جن پر بحرین کے سیاسی قیدیوں منجملہ بحرین کے انسانی حقوق مرکز کے سربراہ نبیل رجب اور اسی طرح انسانی حقوق کے سرگرم عمل کارکن عبد الہادی الخواجہ کی رہائی کیلئے نعرے لکھے ہوئے تھے جس پر پارلیمنٹ کے اسپیکر خلیفہ الظہرانی نے اعتراض بھی کیا ۔
چنانچے مسلمّہ امر یہ ہے کہ بحرینی عوام کا انقلاب اب حسّاس مرحلے میں داخل ہوگیا ہے اور یہ حسّاسیت اس حد تک بڑھہ گئی ہے کہ آل خلیفہ حکومت کے بھی ہاتھہ پیر پھول گئے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ اس نے سعودی عرب کا دامن تھامنے کیلئے ہاتھہ بڑھایا ہے ۔........
/169