15 مئی 2012 - 19:30

اسلامی جمہوریہ ایران کی پارلیمنٹ میں قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیشن کے نائب سربراہ نے بحرین میں انسانی حقوق کمیشن کے سربراہ کی گرفتاری کو انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

ابنا: حسین ابراہیمی نے بحرین میں انسانی حقوق کے تعلق سے آل خلیفہ اور مغرب کی کارکردگي کو مفاد پرستی سے تعبیر کیا۔

انہوں نے کہا کہ ملت بحرین کی بااثر شخصیت نبیل رجب کی گرفتاری یہ ظاہر کرتی ہے کہ بحرینی حکام انسانی حقوق کی اپنی خاص تعریف رکھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بحرینی حکام کی نظر میں انسانی حقوق اسی وقت تک فائدہ مند ہیں جب تک ان کے مفادات حاصل ہوتے رہتے ہیں لیکن اگر اس ڈکٹیٹر حکومت کے مفادات خطرے میں پڑجائيں تو وہ ملت بحرین کے خلاف کسی بھی طرح کے جرائم ڈھانے سے گریز نہیں کرتی۔

حسین ابراہیمی نے کہا کہ عالمی ادارے اس وجہ سے بحرین میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا نوٹس نہیں لے رہے ہیں کہ اس ملک کی اکثریت شیعہ مسلمانوں پر مشتمل ہے۔

انہوں نےکہا کہ ملت بحرین اپنے حق خودارادیت پر تاکید کر رہی ہے لیکن آل خلیفہ چونکہ آمرانہ خیالات کی حامل ہے لہذا ایک پٹھو پارلیمنٹ اور حکومت کی خواہاں ہے جو بے چون و چرا اس کے احکامات کی تعمیل کرسکے۔

انہوں نے کہا کہ آل خلیفہ اپنے اہداف کے لئے آل سعود سے فوجی مدد لے کر ملت بحرین کو کچل رہی ہے۔.......

/169