15 مئی 2012 - 19:30

امريکي اخبار کے مطابق افغانستان ميں امريکي کمانڈر چاہتے ہيں کہ جنگي سازوسامان کي فراہمي دوبارہ پاکستان سے شروع ہوجب کہ پاکستان ميں بھي ہر سطح کے افراد نيٹو سپلائي کي بحالي کے انتظار ميں ہيں، سرکاري حکام اپنے بجٹ ميں توازن کي کوشش ميں جب کہ بليک مارکيٹرز نيٹو کے ٹرکوں اور آئل کنٹينرز سے اشياء چرانے کے لئے تيار بيٹھے ہيں.

ابنا: نيٹو سپلائي کي بحالي پرابھي حتمي معاہدہ طے نہيں پايا ليکن پاکستاني حکام نيٹو سپلائي کي اجازت کے فيصلے کا اعلان آج کرنے جا رہے ہيں. کئي ماہ کي سياسي گفت وشنيد اور مذاکرات کے بعد واشنگٹن اور اسلام آباد کے درميان کشيدگي ميں کمي کا امکان ہے. از سر نو تعلقات کے بعد پاکستان اس تعاون کا بہت زيادہ ٹيرف وصول کرے گا. عسکريت پسندوں کے خلاف جنگ ميں اتحادي ہونے کي وجہ سے پاکستان ’کوليشن اسپورٹ فنڈ‘ کے 1.3 ارب ڈالر حاصل کرے گا.دونوں اطراف کے حکام کا کہنا ہے کہ معاہدے ميں سلالہ چيک پوسٹ پر حملے کي پاکستان سے مکمل امريکي معافي کا تذکرہ نہيں.اخبار نے پشاور کے مضافات ميں چھوٹے تاجروں اور دکانداروں کاتذکرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ نيٹو سپلائي کي بحالي پر اُن ميں خوشي کي لہر دوڑ گئي ہے. اخبار نے پاکستاني وزارت خزانہ کے حکام کے حوالے سے بتايا کہ ميکرو اکنامک سطح پر بھي اسلام آباد کو مالي مدد کي بہت ضرورت ہے.

مجوزہ بجٹ ميں 1.3 ارب ڈالر کو شامل کيا گيا ہے.واشنگٹن پوسٹ کے مطابق نيٹو سپلائي کي بحالي سے فائدہ اٹھانے والوں ميں پاکستاني فوج بھي ہے.مقامي ٹرانسپورٹر ايسوسي ايشن کے حوالے سے اخبار نے بتايا کہ 30في صد نيٹوآئل ٹينکرز پر بلواسطہ فوج کا کنٹرول ہے،تاہم فوج نے سپلائي بزنس ميں اپنے حصے کے بيان پر تبصرہ کرنے سے انکار کر ديا.اخبار نے لکھا کہ قبائلي علاقے کے عسکريت پسند بھي نيٹو سپلائي سے منافع حاصل کرتے ہيں.وہ کمپنيوں سے اُن کے مال کے تحفظ کي رقم کا مطالبہ کرتے ہيں.وہ اپنے حصے کي وصولي نہ ملنے کي صورت ميں ٹينکروں پرحملے شروع کرديتے ہيں.نيٹو سپلائي سے طالبان بھي مستفيد ہوتے ہيں وہ کنٹينروں پر حملہ کر کے ہتھيار اور گولہ بارود چھينتے ہيں.اخبار نے لکھا کہ پوليس اور ديگر مقامي حکام کو بھي کنيٹنرز کو گزارنے کي اجازت پر رشوت دي جاتي ہے.اخبار نے لکھا کہ اسلام آباد اور واشنگٹن ميں مبصرين نے کبھي توقع نہيں کي کہ ڈرونز حملے کبھي بند ہوں گے.

سلالہ چيک پوسٹ پرامريکا 15اپريل سے قبل پاکستان سے باضابطہ معافي مانگنا چاہتا تھا.ليکن کابل حملوں کے بعد امريکي حکام نے اِس معافي کے امکان کو مسترد کرديا.اخبار نے لکھا کہ واشنگٹن کو پاکستان کے فوجي انٹيلي جنس نظام پر انتہائي بد اعتمادي ہے ليکن اس کے باوجود طالبان اور ديگر عسکريت پسندوں کے ساتھ کسي معاہدے ميں پاکستاني شموليت کو امريکا اہم ترين سمجھتا ہے.اخبار نے پشاور کے ايک مقامي کسان کے حوالے سے لکھا کہ نيٹو سپلائي سے ہتھياروں،اسلحہ ا ور بارود کي قيمتيں کم ہو جائيں گي.پشاور ميں26نومبر2011کے بعد امريکي اور يورپي پستول کي قيمت دگني ہو گئيں .  .......

/169