اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق خلیج فارس تعاون کونسل کی رکن عرب ریاستوں کے حکمران تعاون کونسل کو اتحاد میں تبدیل کرنے کی سعودی تجویز سے اتفاق نہیں کرسکے بالفاظ دیگر آل سعود کے بادشاہ بحرین کو زیر نگیں لانے کی سازش میں کامیاب نہ ہوسکے۔ کل کے اجلاس کا ایک نکاتی ایجنڈا ـ تمام بین الاقوامی قوانین اور سفارتی رویوں کے بر عکس ـ خلیج فارس تعاون کونسل کی رکن ریاستوں (عربستان، امارات، کویت، عمان، قطر و بحرین) کو فیڈریشن یا کنفیڈریشن میں تبدیل کرنا تھا جس کا مقصد یہ تھا کہ خلیج فارس کی عرب ریاستوں پر سعودی قبضے کی سازش کا پہلا مرحلہ سر کیا جائے چنانچہ آل خلیفہ اور آل سعود کے خفیہ معاہدے کے تحت بحرین کو سعودی عرب میں ضم کرنے کا منصوبہ تھا لیکن سعودی بادشاہ ریاض کے اجلاس میں کویت، قطر، عمان اور متحدہ عرب امارات کی موافق رائے حاصل نہ کرسکے اور نہ ہی اتحاد قائم ہوسکا اور نہ ہی بحرین کو سعودی عرب کا حصہ بنایا جاسکا۔چار ریاستوں کی مخالفت کا سبب سعودی عرب سے ان ریاستوں کا خوف، بتایا گیا ہے اور انہیں خدشہ ہے کہ کہیں آل سعود کے بادشاہ اپنی باقی ماندہ زندگی میں تمام چھوٹی ریاستوں کو ہڑپ ہی نہ کرلیں چنانچہ انہیں اس عجیب اتحاد میں داخل ہونے کا کوئی شوق نہیں ہے۔سعودی وزیر خارجہ کی پریس کانفرنسناکام اجلاس کے بعد آل سعود کے وزیر خارجہ سعود الفیصل اور تعاون کونسل کے سیکریٹری جنرل "عبداللطیف الزیانی" نے پریس کانفرس میں شرکت کی اور سعود نے باقاعدہ اعلان کیا کہ ان کے بقول "سعودی عرب کو [ان کے بقول] "سعودی بحرین اتحاد" کے سلسلے میں اتفاق رائے نہیں پائی گئی لیکن اس اتحاد کو عملی شکل دینے کا منصوبہ برقرار ہے اور یہ پروگرام [بقول ان کے] خلیج تعاون کونسل کے ایجنڈے میں شامل ہے" اور رکن ریاستوں کے حکمران، کونسل کو اتحاد میں تبدیل کرنے کی سعودی تجویز پر غور و فکر جاری رکھیں گے۔یاد رہے کہ جناب سعود الفیصل عمررسیدگی کی وجہ سے بول نہيں پارہے تھے اور رک رک کر الفاظ ادا کررہے تھے جنہيں سمجھنے کے لئے ان کے لبوں کی حرکت کو غور سے دیکھنا پڑرہا تھا۔ انھوں نے کہا: ذيلی کمیٹیوں میں اتحاد کی تجویز پر غور جاری رہے گا اور یہ کہ سعودی عرب نے یہ تجویز تحریری طور پر تمام اراکین کے لئے بھجوا دیا ہے چنانچہ اتحاد کی تجویز پر سب کو عمل کرنا پڑے گا اور جب یہ تجویز منظور ہوگی تو "اتحاد بحرین اور سعودی عرب تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اس میں تمام ریاستوں کو شامل کی جائے گآ"۔ آل سعود کے وزير خارجہ نے تعاون کونسل کے اجلاسوں کے معمول کو البتہ نہیں بھولا اور انھوں نے ایران پر الزامات کا سلسلہ جاری رکھا اور کہا: ہمارے اتحاد کا ایران سے کوئی تعلق نہیں ہے! / سعود نے کہا: ہم ایران کی دھمکیوں کو مسترد کرتے ہیں اور ایران سے چاہتے ہیں کہ "وہ ہمارے ساتھ پرامن بقائے باہمی کے اصولوں کے تحت تعلقات قائم کرے"!۔یاد رہے کہ اس قسم کے قسم کے اتحاد کی مخالفت میں ایرانی حکام نے ابھی تک کوئی اظہار خیال نہیں کیا گوکہ کسی ملک کو اس طرح کے غیر قانونی ہتھکنڈوں سے اپنی سرزمین میں ضم کرنے کے سپنوں کو بین الاقوامی مخالفت کا سامنا کرنا ہی پڑتا ہے اور وہ بھی ایسے حال میں کہ ایک ملک اقوام متحدہ کی پانچ رکن ریاستوں کو ہڑپ کرنے کے خواب دیکھ رہا ہو۔
14 مئی 2012 - 19:30
News ID: 315236
خلیج فارس تعاون کونسل اتحاد میں تبدیل نہ ہوسکی/ آل سعودی کی ناکامی کے بعد سعودی وزير خارجہ ـ جو عمر رسیدگی کی وجہ سے بمشکل بول پارہے تھے ـ نے ایران پر الزامات کی بوچھاڑ کرتے ہوئے کہا: ہمارے اتحاد کا ایران سے کوئی تعلق نہیں ہے! / سعود نے کہا: ہم ایران کی دھمکیوں کو مسترد کرتے ہیں اور ایران سے چاہتے ہیں کہ "وہ ہمارے ساتھ پرامن بقائے باہمی کے اصولوں کے تحت تعلقات قائم کرے"!۔