ابنا: حاکم اور طاقتور اقوام اپنے لاؤ لشکر کے ذریعے اپنے سے کمزور اقوام پر چڑھائی کرکے ہی ان کو محکوم بنایا کرتی تھیں اور اس کام پر انہیں بعض اوقات برسوں محنت کرنا پڑتی تھی اور سینکڑوں افراد کی قربانی کے بعد انہیں اپنے مد مقابل اقوام کو محکوم بنانے کا موقع نصیب ہوتا تھا جس کے بعد ہی ان کے اور فریق مقابل کے درمیان حاکم اور محکوم کا رشتہ قائم ہوتا تھا۔
قرون وسطی کا یہ قانون جیسے عرف عام میں کیچولیشن کہتے ہیں آج بھی کسی نہ کسی شکل میں موجود ہے اور ان اقوام کی طرف سے قوموں پر مسلط کیا جاتا ہے جو دنیا کی مہذب ترین اقوام کہلاتی ہیں۔ البتہ ماضی کے برخلاف اس قانون پر عمل درآمد کے لئے حملہ کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ کمزور اقوام خود آگے بڑھ کر طاقتور اقوام سے تمنا کرتی ہیں کہ ان کو اس قانون کا اہل سمجھا جائے۔ فوجی سازو سامان، فوجی مشاورین، اور اہلکاروں کو باقاعدہ دعوت دیکر بلایا جاتا ہے، ان کے لئے شاندار رہائش اور بھاری تنخواہوں اور دیگر مراعات کا انتظام کیا جاتا ہے اور اداروں کو اس بات کا پابند کیا جاتا کہ کوئی بھی ان کے کاموں میں مخل نہ ہو، ان کی کسی غلطی کو غلطی نہ سمجھا جائے اور کسی جرم و زیادتی کی صورت میں مکمل پردہ پوشی کی جائے اور ضرورت پڑنے اس کو پورا پورا تحفظ فراہم کیا جائے۔
کیچولیشن مزید وضاحت کردیں کہ حاکم اقوام کا ہر شہری محکوم اقوام کی سرزمین پر ہر قسم کے جرم و زیادتی کا ارتکاب کرسکتا ہے اور محکوم ملک یا قوم کی بڑی سے بڑی عدالت اسے سزا دینے کا حق نہیں رکھتی۔ لیکن محکوم قوم کا کوئی شہری حادثاتی طور پر بھی حاکم قوم کے کسی فرد کے حق میں چھوٹی سی بھی زیادتی کا مرتکب ہوجائے تو اسے دنیا کی کوئی طاقت سزا سے نہیں بچاسکتی۔
محکوم اقوام ہر مطلوب شخص کو حاکم اقوام کے سپرد کرنے پابند ہیں، اسے اصطلاحا مجرموں کی حوالگی کا معاہدہ قرار دیا جاتا ہے تاہم یہ حوالگی کا یہ معاہدہ یک طرفہ ہوتا ہے۔ لیکن جیسا کہ عرض کیا گیا اس قسم کے غیر منصفانہ قوانین زور زبردستی نہیں بلکہ خود محکوم اقوام کہ کہنے پر ان پر مسلط کئے جاتے ہیں۔ماضی میں ایران میں شاہ کی حکومت نے ایسا ہے ایک معاہدہ رضا و رغبت امریکہ کے ساتھ کیاتھا کہ جسے ملت ایران نے ایک دن بھی قبول نہیں کیا اور اس سلسلے میں امام خمینی رحمتہ اللہ علیہ کا تاریخی خطاب اسلامی انقلاب کا سر چشمہ قرار پایا جس نے نہ صرف شاہی استبداد کی بساط ہمیشہ ہمیشہ کے لئے لپیٹ دی بلکہ، حاکم اقوام کے سرغنہ، امریکہ کے منہ پر اتنا زور دار طمانچہ رسید کیا کہ وہ آج تک بلبلا رہا ہے۔اگر محروم اور کمزور اقوام امام خمینی کے بتائے ہوئے راستے کو اپنالیں تو یقینا اس ذلت آمیز زندگی سے نجات پاسکتے ہیں۔
اس وقت عالم اسلام کے بیشتر ممالک اپنے بے پناہ وسائل اور افرادی قوت رکھنے کے باوجود از خود اپنے گلے میں کیپچو لیشن کا ذلت آمیز طوق ڈالے ہوئے ہیں اور اس کی دلیل یہ پیش کرتے ہیں کہ امریکہ ہماری 70 فیصد یا اس کچھ زیادہ اقتصادی مدد کرتا ہے جس کے بغیر ہم ایک دن بھی زندہ نہیں رہ سکتے۔ جبکہ بعض اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایڈ کے نام پر امریکہ کی امداد کسی بھی ملک کے لئے 25 فیصد سے زیادہ نہیں ہے اور اگر ہے تو وہ حکام کی اپنی جیبوں میں جاتی ہے۔
مبصرین کا یہ بھی ماننا ہے کہ اس وقت دنیا کا واحد اسلامی ملک جو کیپچولیشن کہ نہ نوشتہ قانون کی بھینٹ چڑھ رہا ہے وہ پاکستان ہے۔اطلاعات کے مطابق امریکی ایوان نمائندگان میں"پاکستان ٹیررازم اینڈ اکاونٹبیلٹی" بل سینیٹر ڈانا روہرا بیکر نے پیش کیا گیا ہےجس کے تحت پاکستان اور افغانستان میں مرنے والے ہر امریکی کے بدلے، پاکستان کی امداد میں 5 کروڑ ڈالر کی کٹوتی کی جائے گی۔ سینیٹر ڈانا روہرا بیکر ڈانا روہرا بیکر نےالزام لگایا ہے کہ امریکہ طویل عرصے سے پاکستان کی مدد کر رہا ہے۔ ڈانا روہرا بیکر کے مطابق پاکستانی فوج اور آئی ایس آئی کے کچھ عناصر شدت پسندوں کی مدد کرتے ہیں، اسامہ کو چھپنے میں بھی پاکستان کے انٹیلی جنس اداروں نے مدد فراہم کی ہے۔
سینٹ کی خارجہ امور کمیٹی کے سربراہ جان کیری نے دھمکی آمیز لہجے میں کہا ہے کہ اگر پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مزید تعاون نہ کیا تو اسے نتائج بھگتنا پڑیں گے۔کانگرس کے ایک پینل نے امریکی اقتصادی اور فوجی امداد کی وصولی کے لئے کڑی شرائط عائد کرنے کی متفقہ طور پر منظوری دی، اس میں کہا گیا تھا کہ پاکستان کی امداد دہشت گردوں کے خلاف کارروائی، نیٹو سپلائی کی بحالی اور دھماکہ خیز مواد کے خاتمے کے لئے اقدامات سے مشروط کی جائے۔
المیہ یہ کہ اپنے آپ کو محکوم قوم کے طور پر پیش کرنے والے پاکستان حکام امریکیوں سے یہ کہنے کے بھی جرات نہیں رکھتے کہ جس دہشت گردی کے خاتمے کے لئے وہ پاکستان پر دباؤ ڈال رہے ہیں وہ تو خود امریکیوں کی شروع کی ہوئی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ امریکہ نے 9/11 کے مشکوک واقعات کے بعد پاکستان کو پتھر کے دور میں لوٹانے کی دھمکی دی تھی، تو کیا امریکہ افغانستان کو پتھر کے دور میں پہنچادیا؟ کیا عراق پر امریکہ دوبار کے تباہ کن حملوں کے بعد عراق ختم ہوگیا؟ عراق اور افغانستان آج بھی اپنی جگہ موجود ہیں، البتہ اتنا ضرور ہوا کہ ان دونوں ملکوں میں چونکہ حکومتوں کو اپنے عوام کی حمایت حاصل نہیں تھی لھذا امریکی جارحیت کے سبب حکام تبدیل ہوگئے اور حکام بھی وہ جن کا اقتدار خود امریکیوں کی بلواسطہ یا بلا واسطہ حمایت اور تعاون کے بغیر ممکن نہیں تھا۔ بہرحال سینیٹر روہرا بیکر ڈانا کے مجوزہ بل پر عمل درآمد ہو یا نہ ہو یہ بات معلوم ہوگئی کہ پاکستان یا افغانستان میں مارے جانے والے ایک امریکی شہری کی جان کی قیمت پانچ کروڑ ڈالر ہے۔ ........
/169