حدیث "لا نورث، ما ترکناہ صدقۃ" کا افسانہ ـ 1
ترجمہ: حضرت فاطمہ (س) نے فرمایا: کیا تم نے جان کر کتاب اللہ کو ترک کیا اور اس کو اپنے پیچهے پهینک دیا؟ جب کہ الله تعالی ارشاد فرماتا ہے: (اور سلیمان داؤد کا وارث ہؤا) . اور الله تعالی یحیی بن زکریا کا قصہ بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے: (پس مجهے ایسا فرزند عطا کردے جو میرا اور آل یعقوب کا وارث ہو") اور خداوند عز وجل نے فرمایا"خدا کے مقرر کئے ہوئے احکام میں قرابتدار اور رشتہ دار ایک دوسرے کے لئے (دوسروں سے) زیادہ ترجیح رکهتے ہیں") اور فرمایا: ("خداوند تعالی فرزندوں کے بارے میں تمہیں سفارش کرتا ہے کہ لڑکے کا حصہ (میراث) دو لڑکیوں کی میراث کے برابر ہے") اور فرمایا: ("تمہارے اوپر واجب کیا گیا ہے کہ جب تم میں سے کسی کی موت کا وقت آپهنچے اگر اس نے اپنے پیچهے کوئی اچهی چیز چهوڑ رکهی ہو تو اپنے والدین اور رشتہ داروں کے لئے شایستہ انداز میں وصیت کرے یہ حق ہے پرہیزگاروں پر.") اور تم نے گمان کیا کہ میرے لئے میرے والد سے کوئی بهی حصہ اور ارث نہیں ہے! اور ہمارے درمیان کوئی رشتہ داری نہیں ہے! پس کیا خدا نے ایک آیت تمہارے لئے مختص کردی اور اپنے نبی کو اس (آیت) سے نکال باہر کیا؟ یا پهر تم یہ کہنا چاہتے ہو کہ اگر رشتہ دار دو دینوں کے پیروکار ہوں تو وہ ایک دوسرے کے وارث نہیں بن سکتے! یا یہ کہ میں اور میرے والد ایک دین کے پیروکار نہیں ہیں!! یا یہ کہ قرآن کے عموم اور خصوص کے بارے میں تم میرے والد سے زیادہ عالم اور جاننے والے ہو!!! کیا تم پهر بهی جاہلیت کی حکمرانی چاہتے ہو؟۔ (32)
ایک سوال: اگر اہل بیت اور اولاد نبی(ص)، نبی (ص) کے وارث نہیں ہوسکتے تو پهر کون آپ (ص) کا وارث ہوگا؟
اگر حدیث (لانورث) صحیح ہے تو اس میں تو کوئی بهی استثنا نظر نہیں آتی اور عائشہ کی روایت کے مطابق جناب سیدہ نے اپنا نمائندہ بهیج کر ابوبکر سے مدینہ اور فدک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو خدا کی جانب سے لوٹائے جانے والے املاک میں سے اپنے ارث اور خیبر کےباقیماندہ خمس کا مطالبہ کیا. ابوبکر نے کہا: رسول اللہ نے فرمایا ہے کہ "ہم انبیاء" کوئی ارث اپنے پیچهے نہیں چهوڑتے اور ہمارا ترکہ صدقہ ہوتا ہے اور آل محمد صلی الله علیہ و آلہ و سلم کو ان اموال میں سے صرف اپنا حصہ مل سکتا ہے. اور یہ کہ ابوبکر نے جناب سیدہ کو کچھ بهی دینی سی انکارکیا. (33) تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ابوبکر کے موقف میں کوئی استثنا نہیں تهی مگر ایک روایت ایسی بهی ملتی ہے جس میں ابوبکر استثنا کے قائل ہوئے ہیں اور اس روایت کا عنوان کچھ یوں ہے:
نفی ارث سے استثناء یا پھر جعلی حدیث سے استثناء:
شرح نہج البلاغہ اور بلاغات النساء میں ایک روایت نقل ہوئی ہے جس کا عنوان ہے:
"ابوبکر کی جانب سے عدل و انصاف کو عملی جامہ پہنانے اور اہل بیت کرام پر رحم و شفقت کے عنوان سے ارث نبی (ص) کی نفی سے اسثناء"۔
اس روایت میں ہم پڑھتے ہيں:
"فقد تفضل ابوبكر لقد دفعت ألة رسول الله و دابته و حذاه الی علی و ما سوی ذالك ینطبق علیه الحدیث"۔ (34)
ترجمه: " پس ابوبکر نے کہا: میں نے رسول اللہ کی شمشیر، آپ (ص) کا گهوڑا اور جوتے علی (ع) کے سپرد کئے اور اس کے سوا دیگر تمام اشیاء پر حدیث کا انطباق ہوتا ہے!!!
یہاں خلیفہ کے اس فضل و کرم سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ حدیث واقعی رسول اللہ (ص) نے نہیں فرمائی تهی کیونکہ اگر یہ حدیث رسول اللہ (ص) کی ہوتی تو ان کو استثناء کا حق ہی نہيں تھا اور دوسری جانب سے اگر اگر حدیث جعلی نہ ہوتی اور اس میں استثناء کا حق خلیفہ کو حاصل تھا تو انھوں نے اگر مذکورہ بالا اشیاء کو ارث کے اس نئے قانون سے مستثنی قرار دیا تو وہ اس سے زیادہ اہم چیزیں بھی مستثنی کرسکتے تھے اور پھر فدک تو ویسے بھی ارث سے مستثنی تھا۔ لیکن خلیفہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی تمام قیمتی چیزیں اپنے پاس رکھ لیں اور جوتے اور گھوڑا وغیرہ کو واپس کردیا جبکہ فدک اگر سیدہ (س) کے پاس ہوتا تو خاندان رسول (ص) کو کبھی بھی غربت کا منہ نہ دیکھنا پڑتا اور خدا اور رسول خدا (ص) نے فدک اسی لئے سیدہ کو دیا تھا کہ آل رسول (ص) کو کبھی مالی حوالے سے کوئی مسئلہ درپیش نہ ہو لیکن وہ تو حکومت نے لے لیا چنانچہ معلوم ہوتا ہے کہ حکومتی مشینری نے فدک غصب کرکے در حقیقت اہل بیت (ع) رسول کی آمدنی کا ذریعہ ان سے چھین لیا۔ اور اگر فدک غصب نہ کیا جاتا تو ایک اہم ہدف حاصل نہ ہوتا اور وہ یہ کہ اہل بیت علیہم السلام کو مالی حوالے سے بڑی آمدنی حاصل ہوتی اور سقیفہ پر بھ سوال اٹھانے کے مواقع میسر آتے اور جن لوگوں نے اس وقت تک جان و مال کے خوف سے خاموش رہ گئے تھے، ممکن تھا کہ زبان کھول دیتے اور اہل سقیفہ کی بنی بنائی حکومت کی جڑیں اکھڑ جاتیں۔ اگرچہ رسول اللہ (ص) کی سواری، شمشمیر اور انگشتری کی علی علیہ السلام کے منتقلی خود اس بات کی دلیل ہے کہ ابوبکر نے در حقیقت حکومت علی علیہ السلام کو منتقل کرلی ہے گوکہ خلیفہ اور اہل سقیفہ در حقیقت اس باریک نکتے سے غافل تھے۔ ۔ الی از اهل بیت و علی علیهم السلام بود – حاصل نمی شد اهل بیت اطهار علیهم السلام از ثروت بیشتری بهره مند می شدند و از سوی دیگر سقیفه نیز زیر سوال می رفت و مسلمانان که از ترس دستگاه خلافت دم فرو بسته بودند ممکن بود لب به سخن بگشایند و رشته های اهل سقیقه را پنبه کنند. اگرچه انتقال سواری و شمشیر رسول خدا خود از نشانه های انتقال حکومت به علی است که ابوبکر و دارو دسته او از این نکته باریک بی اطلاع بودند!. روایت میں ہے کہ ابوبکر نے اہل بیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر تفضل کیا اور یہ اشیاء علی علیہ السلام کو لوٹا دیں لیکن سوال یہ ہے کہ جو شخص اہل بیت (ع) کے قرآنی، اسلامی، عرفی اور شرعی حق کو جعلی حدیث کا سہارا لے کر غصب کرسکتا ہے جب کہ یہ حق ہر مسلمان مرد اور عورت کے لئے ثابت ہے اور اہل بیت (ع) وہ ہیں جن کے حق میں حدیث ثقلین (35) وارد ہوئی ہے اور ان کی اطاعت دنیا اور آخرت کی فلاح کی ضامن ہے، وہ اہل بیت (ع) پر تفضل کیونکر کرسکاتا ہے! جو کچھ انھوں نے اہل بیت (ع) کے سپرد کیا اس سے خلیفہ اور ان کے حاشیہ برداروں کو کچھ فائدہ نہيں مل سکتا تھا۔
صدقہ اہل بیت (ع) پر حرام اور صحیح حدیث کی خلاف ورزی حرام
حدیث سے تو عدم ارث والی بات ثابت نہ ہوسکی اور پھر اگر یہ حدیث صحیح تھی اور تمام عقلی اور نقلی موانع کے باوجود فرض کیا جائے کہ رسول اکرم (ص) سے نقل ہوئی تھی تو پھر تو رسول اکرم (ص) کا ترکہ صدقہ تھا اور جوتے، تلوار اور گھوڑا بھی صدقہ ہی ہوگا جبکہ علی علیہ السلام اور اہل بیت علیہم السلام پر صدقہ حرام تھا۔ چنانچہ نہ تو علی علیہ السلام صدقہ لینے پر راضی ہوسکتے تھے اور نہ ہی خلیفہ صدقے کی پیشکش کرسکتے تھے اور پھر وہ جو علی اور فاطمہ علیہماالسلام کا حق لے کر صدقے میں تبدیل کررہے تھے اور اس کے لئے اس قسم کی حدیث کا سہارا لے رہے تھے تو وہ صدقہ ـ جو شرعاً اہل بیت پر حرام تھا ـ کیونکر انہیں پیش کردیتے؟ چنانچہ ثابت ہوتا ہے کہ جس مال و ملک میں رحمت و شفقت و تفضل کی گنجائش ہو اس کے لئے کوئی شرعی مانع نہیں ہوتا اور شرعی مانع ہو تو ایک خلیفہ کو اس میں کسی بھی عنوان سے استثناء کا قائل ہونا ناقابل قبول ہوگا اور اگر تصور کیا جائے کہ حدیث صحیح تھی تو ان کا یہ تفضل امر حرام تھا۔
یہ حدیث قرآن سے متصادم ہے
ارث کے اکثر احکام قرآن مجید میں خداوند متعال نے بیان فرمائے ہیں اور ظواہر آیات سے یہ قوانین و احکام اخذ کئے جاتے ہیں چنانچہ ان احکام الہی کو نظرانداز کرکے ذاتی اجتہاد کا سہارا لینے کی گنجائش نہیں ہے۔
ہم یہاں ارث کی آیتوں کے دو زمروں سے استناد کرتے ہیں:
زمرہ اول: وہ آیات قرآنی جن میں ارث کے عمومی احکام شامل ہیں اور ان سے کسی کو بھی مسثنی قرار نہیں دیا گیا ہے جیسے:
1۔ "لِّلرِّجَالِ نَصيِبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالأَقْرَبُونَ وَلِلنِّسَاء نَصِيبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالأَقْرَبُونَ مِمَّا قَلَّ مِنْهُ أَوْ كَثُرَ نَصِيبًا مَّفْرُوضاً"۔ (36)
ترجمہ: مردوں کے لئے ان کے والدین اور اقربا کے ترکے میں ایک حصہّ ہے اور عورتوں کے لئے بھی ان کے والدین اور اقربا کے ترکے میں سے ایک حصہّ ہے وہ مال بہت ہو یا تھوڑا یہ حصہّ متعین اور واجب ہے۔
2۔ "يُوصِيكُمُ اللّهُ فِي أَوْلاَدِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الأُ