ابنا: رامين مہمان پرست نے بدھ کي شام اخبار نويسوں سے گفتگو کرتے ہوئے امريکا کے عالمي سيکورٹي کے مرکز کے اس دعوے کو کہ پارچين ميں ايٹمي سرگرميوں کے آثار کو مٹانے کي کوشش کي جا رہي ہے، پوري طرح سے بے بنياد بتاتے ہوئے کہا کہ اگر اس مرکز کے پاس تھوڑا سا بھي تجربہ ہوتا تو اسے معلوم ہوتا کہ ايٹمي سرگرميوں کے آثار کو اتني جلدي ختم نہيں کيا جا سکتا-
انہوں نے اسي طرح امريکا ميں دہشتگرد گروہوں کي فہرست سے ايم کے او کا نام حذف کيے جانے کے امکان کے بارے ميں سامنے آنے والي بعض رپورٹوں پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ يہ اقدام، دہشتگرد گروہوں کے سلسلے ميں مغربي ملکوں کي ماہيت کو پہلے سے زيادہ نماياں کر دے گا-
وزارت خارجہ کے ترجمان نے زور دے کر کہا کہ دہشتگردي سے مقابلے کے سلسلے ميں بعض ممالک کے دعووں کے برخلاف يہي ممالک دہشتگرد گروہوں کي سب سے زيادہ حمايت کر رہے ہيں- وزارت خارجہ کے ترجمان نے اس بات کي جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ عراق کے عوام اور حکام، ايم کے او کے دہشتگردوں کو اپنے ملک سے باہر نکالنے کے خواہاں ہيں، کہا کہ اس بات کي اجازت نہيں دي جاني چاہيے کہ يہ دہشتگرد ايران کے پڑوسي ملکوں ميں جا کر بس جائيں........
/169