اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق گوجرانوالہ کے ایک امام مسجد حافظ ذوالفقار کو نامعلوم کار سواروں نے آٹھ روز قبل اغوا کیا تھا جہاں ان کو بدترین اور انسانیت سوز تشدد کا نشانہ بنایا اور ان کے پاؤں اور پنڈلیوں میں کیلیں ٹھونک دی گئیں۔دریں اثناء گوجرانوالہ میں پولیس والوں نے مرغی فروش کو مرغ مفت نہ دینے پر ہاتھ پاؤں میں کیلیں ٹھونک کر ناکردہ گناہ کی سزا دی ہے جبکہ جھنگ میں بھی ایک غریب ملازم کو اسی قسم کی نئی سزا کا نشانہ بنایا گیا ہے! لگتا ہے کہ یہ وہاں کے تہذيب یافتہ لوگوں کی نئی تخلیق ہے یا پھر ہے پرانی جس کو قیمتی ورثہ سمجھ کر زندہ کیا جارہا ہے!۔حافظ ذوالفقار کو حالت خراب ہونے پر ایک ندی پور میں واقع ایک ویرانے میں پھینک دیا گیا تھا اور اسپتال میں جب وہ بولنے کے قابل ہوئے تو پولیس والوں کو بتایا کہ ملزموں نے ان کو "اختلاف رائے" کی وجہ سے بھیانک تشدد کا نشانہ بنایا ہے۔ مولانا حافظ ذوالفقار علاقے کی ایک مسجد کے سابق امام ہیں اور ابنا کو موصولہ اطلاعات کے مطابق وہ عرصہ چار ماہ سے شیعہ مذہب اختیار کرچکے ہیں جس کی وجہ سے انہیں ایک مولوی صاحب کی سرکردگی میں اغوا کیا گیا تھا اور مولوی صاحب کی نگرانی میں ہی ان کو کیلیں ٹھونک کر درندگی کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ایک رپورٹ کے مطابق مولوی صاحب، جو بظاہر وہابیت کے پرچارک بھی ہیں، کو گرفتار کیا گیا ہے اور پولیس ان سے تفتیش کررہی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔
/110