اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کو موصولہ رپورٹوں کے مطابق کل دوپہر6 مئی 2012 کومستونگ کے علاقے دشت میں ” رفتارپیٹرول پمپ” کے قریب واقع ٹائرشاپ کے مالک محمد علی کوشہید کردیا ۔ شہید محمد علی کوسول ہسپتال منتقل کردیا گیاجس کے بعد انہیں کوئٹہ کے مقامی قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا۔
ابنا کو ملنے والی اطلاعات کے مطابق شہید کی نماز جنازہ آج بعد از نماز ظہرین ادا کی گئی جس میں علماء کرام اور شیعیان کوئٹہ کی کثیر تعداد موجود تھی ۔
جنازے میں شریک مؤمنین نے دہشت گردی مردہ باد اور لبیک یاحسین کے نعرے لگائے۔
شہید کو کوئٹہ کے مقامی قبرستان میں لبیک یاحسین کے فلک شگاف نعروں کی گونج میں سپردخاک کیا۔
مجلس وحدت مسلمین اور دیگر شیعہ تنظیموں کی جانب سے اس دہشت گردی کے واقع کی شدید مذمت کی ۔
حال ہی میں شیعہ نوجوانوں کے ہاتھوں گرفتار ہونے والے بعض دہشت گردوں کی شناخت ہونے کے بعد ان خدشات کو تقویت ملی ہے کہ گویا شیعیان بلوچستان کی نسل کشی میں بلوچ قوم پرست دہشت گرد بھی شامل ہیں جو اہل تشیع کو قتل کرتے ہیں تو مذہبی دہشت گردوں کا نام لے کر ذمہ داری قبول کرتے ہیں اور اگر سرکاری اہلکاروں کو قتل کریں تو بی ایل اے وغیرہ کے نام پر ذمہ داری قبول کرتے ہیں یا پھر دہشت گردوں کی یہ دو قسمیں اور دو جماعتیں مل کر اور ہمآہنگ ہوکر دہشت گردی کی کاروائیاں کررہی ہیں۔
یہ سوال بہرحال اپنی جگہ قائم ہے کہ کیا دوسروں کو مار کر کوئی تہذیب یا تمدن کو معرض وجود میں لایا جاسکتا ہے؟ کیا خون کی ندیوں پر کسی جغرافیائی نقطے پر کسی ملت کی تشکیل ہوسکتی ہے یا کسی خاص قسم کی فکر پروان چڑھ سکتی ہے؟ تاریخ کہتی ہے کہ ایسی قومیں مٹ جایا کرتی ہیں اور ایے افکار تاریخ کے صفحات میں اپنے حاملین کے لئے دائمی اور ابدی خجلت کا سبب بنتی ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ کیا مذہب یا قوم کے نام پر خون کی ندیاں بہانے والے کچھ پڑھتے لکھتے ہھی ہیں؟
اور ہاں! ایک سوال یہ بھی ہے کہ کیا کسی قوم کو مار مار کر مٹایا جاسکتا ہے؟ اور اس کا جواب یہ ہے کہ حجاج بن یوسف ثقفی جیسے بدنام تاریخ خونخوار اموی گورنر نے شیعیان علی (ع) کا قتل عام کروانے کے لئے انعامات مقرر کئے اور تمام اموی اور عباسی حکمرانوں نے شیعہ مذہب اور اس کے پیروکاروں کو مٹانے کی بھرپور کوشش کی مگر وہ خود مٹ گئے نہ فاتحہ نہ درود۔
معاصر تاریخ میں پوری یورپی بے تہذیبی نے امریکہ کے سرخ فام تمدن کو مٹانے کے لئے اپنی پوری استعماری طاقت صرف کردی لیکن وہاں طاقتور امریکہ کے مٹ جانے کے خدشات تو موجود ہيں مگر سرخ فام آج بھی پورے بر اعظم امریکہ میں پائے جاتے ہیں چنانچہ کسی کو مارنے یا بھگانے سے کوئی قوم، کوئی تہذیب یا کسی خاص فکر کے حامیوں کی تعداد میں اضافہ کرنا ممکن نہيں ہے۔
............
/169 ـ 110