ابنا: ايران کي وزارت خارجہ کےترجمان رامين مہمان پرست نے امريکا اور افغانستان کے درميان اسٹريٹجک معاہدے پر اپنے رد عمل کا اظہا کرتے ہوئے کہاکہ اسلامي جمہوريہ ايران مذکورہ معاہدے کے تئيں اپني تشويش کا اعلان کرتا ہے -
ايران کي وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہاکہ افغانستان ميں امريکا کے فوجي اڈوں کے مستقبل کے بارے ميں پايا جانےوالا ابہام اور يہ کہ سيکورٹي کے امور ميں امريکا کے فرائض واضح طور پر بيان نہيں کئے گئے ايسے نکات ہيں جن پر ايران کو تشويش ہے اور اس بات کے پيش نظر ايران کو علاقے ميں عدم استحکام پيدا ہوجانے کا انديشہ لاحق ہے -
وزارت خارجہ کے ترجمان نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ ايران سمجھتا ہے کہ افغانستان ميں امن اسي وقت قائم ہوگا جب غير ملکي فوجيں وہاں سے نکل جائيں گي اور سبھي متعلقہ فريق مل بيٹھ کر اپنے معالامات حل کريں کہاکہ امريکا کے ساتھ افغانستان کے اسٹريٹجک سمجھوتے سے نہ صرف يہ کہ اس ملک کي سيکورٹي مشکلات حل نہيں ہوں گي بلکہ گذشتہ دس برس کي ہي طرح اس ملک ميں بدامني کے واقعات ميں اضافہ ہي ہوتا رہے گا.......
/169