ابنا: اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ علی اکبر صالحی نے نامہ نگاروں کے ساتھ گفتگو میں بغداد اور ویانا میں گروپ 1+5 اور ایران کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے بارے میں ایران کے اہتمام کو بڑی اہمیت کا حامل قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ گروپ 1+5 اور ایران کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں عملی قدم اٹھانے کی بہت بڑی امید اور توقع ہے۔
انھوں نے کہا کہ ایران کے پرامن ایٹمی پروگرام کے بارے میں یکطرفہ سیاسی دباؤ ختم ہونا چاہیے کیونکہ ایران ایٹمی ایجنسی کا رکن ملک ہے اور اس کا ایٹمی پروگرام بین الاقوامی قوانین کے مطابق ہے انھوں نے کہا کہ کشیدگی پیدا کرنے کے بجائے دنیا سے کشیدگی کو ختم کرنا چاہیے اور جدید ٹیکنالوجی سے قوموں کو فائدہ اٹھانے کا موقع فراہم کرنا چاہیے۔
صالحی نے کہا کہ یورپ کو ایران کے تیل کی ضرورت ہے اور ایران بھی یورپ کی پیشرفتہ ٹیکنالوجی سے استفادہ کرنے کا خواہاں ہے۔ انھوں نے کہا کہ بغداد میں ہونے والے مذاکرات میں عملی قدم کی بہت بڑي امید ہے انھوں نے کہا کہ ایران بغداد اور ویانا میں گروپ 1+5 اور ایران کے درمیان مذاکرات کو بڑی اہمیت کی نظر سے دیکھتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ایران تمام معاملات کو پیشگي شرط کے بغیر حل کرنے کا خواہاں ہے۔
.......
/169