30 اپریل 2012 - 19:30

ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی آئی اے ای اے میں اسلامی جمہوریہ ایران کے نمائندے علی اصغر سلطانیہ نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ایران یورینیم کی افزودگي ہرگز نہیں روکے گا۔

ابنا: علی اصغر سلطانیہ نے روئیٹر نیوز ایجنسی سے بات چیت میں اس سوال کے جواب میں کہ کیا ایٹمی ایجنسی کے معائنہ کار تہران کے مشرق میں واقع پارچین کے فوجی مرکز کا معائنہ کر سکتے ہیں، کہا کہ ہر اقدام پر دو طرفہ معاہدوں کے مطابق عمل کیا جائے گا۔

یہ بیان ایک ایسے وقت میں دیا گيا ہے کہ جب ایران اور آئی اے ای اے کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور چودہ اور پندرہ مئی کو ویانا میں ہو گا۔ ایران اور آئی اے ای اے کے مذاکرات کا مقصد تعاون میں اضافے اور مسائل کے حل کے لیے ایک فریم ورک تیار کرنا ہے۔

ویانا میں ایران اور آئی اے ای اے کے مذاکرات بغداد میں ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے مذاکرات کے دوسرے مرحلے سے قبل انجام پائیں گے۔ ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور چودہ اپریل کو استنبول میں منعقد ہوا تھا۔ استنبول مذاکرات میں یہ طے پایا کہ مذاکرات کے دوسرے دور سے قبل دونوں فریق ایٹمی مسئلے سمیت تعاون کے پروگرام اور عمل درآمد کی اسٹریٹجی تیار کریں گے اور تئیس مئی کو بغداد اجلاس میں پیش کریں گے۔

ایران نے دو ہزار سات میں بھی فریم ورک کے تحت، ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی کے ساتھ طے شدہ معاہدے کے مطابق ایجنسی کی جانب سے اٹھائے گئے چھ سوالوں کے جوابات دیے اور مذکورہ مسائل حل ہو گئے۔ جنوری دو ہزار بارہ کے اواخر میں بھی ایران اور آئی اے ای اے کے حکام کے درمیان تہران میں بعض مسائل کے حل کے بارے میں اہم مذاکرات انجام پائے۔ اس سلسلے میں آئی اے ای اے کے سربراہ یوکیا امانو کے نائب ہرمن ناکارٹس کی سربراہی میں اس ایجنسی کے ایک اعلی رتبہ وفد نے تہران کا دورہ کیا اور مذاکرات کے اختتام پر اعلان کیا گیا کہ تہران اور آئی اے ای اے نے ایٹمی موضوع پر باقی ماندہ مسائل کے حل کے بارے میں اتفاق کر لیا ہے۔ ان مذاکرات کو ویانا میں بھی جاری رکھا گیا۔ جن میں بہت سے اہم اتفاق رائے سامنے آئے۔

اس کے علاوہ آئی اے ای اے کے معائنہ کاروں کی جانب سے ایران کی ایٹمی تنصیبات کے مسلسل معائنوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کی ایٹمی سرگرمیوں میں کوئی ابہام نہیں پایا جاتا ہے۔

آئی اے ای اے کے ساتھ ایران کے مسلسل مذاکرات اس حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں کہ ایران ایٹمی ایجنسی کے ساتھ تعاون کے لیے کوئی محدودیت نہیں رکھتا ہے۔ لیکن جیسا کہ علی اصغر سلطانیہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ایران اپنے ایٹمی حقوق کے مسئلے میں پیچھے نہیں ہٹے گا۔ یہ حقوق این پی ٹی معاہدے میں رکن ملکوں کو دیے گئے ہیں اور ایران انہی حقوق کی بات کر رہا ہے۔

اس معاہدے میں دو بنیادی باتیں شامل ہیں ایک یہ کہ این پی ٹی معاہدے اور ایجنسی کی نگرانی میں یورینیم کی افزودگی سمیت ایٹمی ٹیکنالوجی کے حصول کے حق کو تسلیم کیا گیا ہے دوسری یہ کہ ایٹمی ہتھیار رکھنے والوں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ ایٹمی ہتھیاروں کی تباہی کے لیے اقدام کریں۔ این پی ٹی معاہدے کے تناظر میں ایران بھی دنیا کو ایٹمی ہتھیاروں سے پاک کرنے کا خواہش مند ہے اور دینی و انسانی اصول و اقدار کے مطابق اس قسم کے ہتھیاروں کی تیاری اور استعمال کو حرام سمجھتا ہے۔

اس کے باوجود ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی نے ایران کے ایٹمی پروگرام کے بارے میں بعض غیرحقیقی رپورٹوں اور بےبنیاد دعووں پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنی تکنیکی اور قانونی ذمہ داریوں سے پہلو تہی اور دوری اختیار کی ہے حتی کہ برطانیہ کے اخبار گارڈین نے اپنی تئیس مارچ کی اشاعت میں ایران کے بارے میں آئی اے ای اے کی پالیسیوں کے بارے میں ایک تنقیدی رپورٹ شائع کرتے ہوئے لکھا کہ یوکیا امانو غیرمصدقہ اطلاعات کے ذرائع پر حد سے زیادہ اعتماد کر رہے ہیں۔

بہرحال ان تصورات اور قیاس آرائیوں کا اب خاتمہ ہونا چاہیے کہ ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی نے مغرب کے دباؤ سے متاثر ہو کر ایران کے ایٹمی مسئلے کو تکنیکی اور قانونی بحثوں سے نکال کر سیاسی مرحلے اور سلامتی کونسل کی بحث میں داخل کر دیا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ایران اور عالمی ایجنسی کا حالیہ معاہدہ اور اس ایجنسی میں ایران کے نمائندے کا بیان مطقی ترین آپشن ہے کہ جو اس سلسلے میں راستے کو ہموار کر سکتا ہے۔.......

/169