28 اپریل 2012 - 19:30

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما جنرل ریٹائرڈ عبدالقیوم خان نے ’’اسلام ٹائمز‘‘ کو خصوصی انٹرویو میں کہا ہے کہ ایران تو تیاری میں بیٹھا کہ ہے اسرائیل اس طرح کی حرکت کب کرتا ہے، اگر ایسا ہوا تو اس کے اثرات تباہ کن ہوں گے۔ اگر ایران خلیج فارس (سٹریٹ آف ہرمز) کو بند کرتا ہے اور امریکہ بھی اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھونا شروع کر دیتا ہے تو یہ مسئلہ پورے خطے کو ہلا کر رکھ دے گا اور یہ ایک بڑی جنگ کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ اس جنگ میں چین اور روس بھی شامل ہو جائیں گے۔

ابنا: لیفٹینٹ جنرل ریٹائرڈ عبدالقیوم کا نام ملک کے ممتاز محققین اور سیاسی نشیب و فراز پر گہری نظر رکھنے والے بلند پایہ دفاعی و سیاسی تجزیہ نگاروں میں ہوتا ہے، ریٹائرڈ جنرل عبدالقیوم، پاکستان آرڈینسنس بورڈ اور پاکستان سٹیل ملز کے سابق چیئرمین رہے ہیں، نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے ممبر اور سابق وزیراعظم محترمہ بینظیر بھٹو شہید کے ملٹری سیکرٹری کے فرائض بھی انجام دے چکے ہیں اور اس وقت نظریہ پاکستان فورم اسلام آباد کے صدر کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں، جنرل عبدالقیوم نے حال ہی میں پاکستان مسلم لیگ ن میں شمولیت اختیار کی ہے۔ اسلام ٹائمز نے اُن سے ملکی اور بین الااقومی صورتحال پر ایک تفصیلی انٹرویو کیا ہے، جو قارئین کی خدمت میں پیش ہے۔ ادارہ

اسلام ٹائمز: کراچی کے حالات مسلسل خراب جا رہے ہیں، لاشوں پہ لاشیں گر رہی ہیں، کون سی ایسی قوتیں ملوث ہیں جو شہر قائد میں امن قائم نہیں ہونے دیتیں، اور اُن کے آگے قانون نافذ کرنے والے اداے کیوں بے بس نظر آتے ہیں۔؟جنرل ریٹائرڈ عبدالقیوم: کراچی میں کچھ لوگ امن قائم کرنے میں اتنی دلچسپی نہیں لیتے جتنی حالات کے خراب کرنے اور ہونے میں لیتے ہیں۔ مثلاً پہلے ایم کیو ایم والوں نے اپنی تھانہ داری قائم کر رکھی تھی اور اب عوامی نیشنل پارٹی نے یہ کام شروع کر دیا ہے۔ پی ٹی آئی والے بھی کراچی میں اپنا کام دکھا رہے ہیں۔ کراچی کے حالات خراب کرنے میں فرقہ وارنہ عناصر بھی اپنا اثر دکھا رہے ہیں، ان تمام واقعات سے پاکستان دشمن عناصر کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔ حالات خراب کرنے میں جرائم پیشہ لوگ بھی شامل ہیں، جو اپنا ہاتھ صاف کر لیتے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ کراچی کے حالات کی خرابی کا ایک سبب قیادت کا نہ ہونا ہے، اگر اوپر سے قیادت مضبوط ہو تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کراچی میں کونسی پارٹی ہولڈ کرتی ہے، قیادت ہمیشہ قانون کی رٹ کو بحال کرتی ہے، لیکن ابھی تک کراچی میں ایسی کوئی چیز نظر نہیں آتی۔ یہ کام اس وقت ہو سکتا ہے جب قیادت کا اپنا کردار اچھا ہو۔ سیاسی پارٹیوں کی حالت دیکھیں تو پتہ چلتا ہے کہ ہر کام پیسے سے ہوتا ہے، جس کے باعث صحیح قیادت اوپر نہیں آ پاتی، ہماری سیاسی قیادت پیسوں میں بک جاتی ہے۔

جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ سینیٹ کے الیکشن ہوئے تو اس پر کڑوروں روپے خرچ کیے گئے۔ اب یہ سارے بے شرموں کی طرح کہتے ہیں کہ اتنا ڈویلپمنٹ فنڈ لے لو اور ووٹ مجھے دینا جبکہ پہلے یہ گالی سمجھی جاتی تھی۔ ڈویلپمنٹ فنڈ کا مطلب یہ ہی ہے کہ اتنے پیسے میرے ہیں اور اتنے تمہارے۔ اس سے پہلے یہ چیزیں نہیں تھیں۔

اسلام ٹائمز: چلاس اور کوہستان کے واقعات کو کس نگاہ سے دیکھتے ہیں، کون لوگ ہیں جو پہلے کوئٹہ میں مخصوص فرقہ کے لوگوں کو نشانہ بنا رہے تھے اور اب گلگت بلتستان میں آگ و خون کا بازار گرم کیے ہوئے ہیں، حکومت ہمیشہ یہی کہتی نظر آتی ہے کہ تیسرا ہاتھ ملوث ہے۔؟جنرل ریٹائرڈ عبدالقیوم: میں یہ کہتا ہوں کہ اگر ہم اپنے مسائل کو خود حل کر سکیں تو تیسرا ہاتھ ملوث نہیں ہو سکتا اور اس کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ کچھ دن پہلے میں ملائشیاء کے سفارتکار کے ساتھ بیٹھ کر ایک پرزنٹیشن سن رہا تھا، تو ہم نے ان سے سوال کیا کہ آپ کے ملک میں ملاحے بھی ہیں، چائنیز بھی ہیں، ملیشینز بھی ہیں، تو آپ کس طرح ساری صورتحال کو اپنے قابو میں رکھتے ہیں، انہوں نے جواب یوں دیا کہ ہم نے لوگوں کو روزگار دیا ہوا ہے، تعلیم پر زور ہے، ہمارا 4.7 فیصد بجٹ ان امور پر خرچ ہوتا ہے، قانون سب کے لیے ہے، ٹائم کی پابندی ہے، ٹرینیں وقت پر چلتی ہیں، جہاز وقت پر چلتے ہیں، اسی طرح ہمارے سارے کام وقت پر ہوتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ ملیشیاء کے اندر کوئی مسئلہ نہیں ہوتا۔

اب میں جو سمجھتا ہوں کہ وہ یہ ہے کہ وہاں افغانستان نہیں، وہاں پر امریکہ اور انڈیا کے کوئی جنگی اثرات نہیں، وہاں پر ان کا انڈیا کے ساتھ کشمیر جیسا جھگڑا نہیں جبکہ اس کے برعکس ہمارے پاس یہ سارے مسائل موجود ہیں۔ دوسری طرف یہاں پر حالات کنٹرول کرنے کے لیے جتنی بڑی قدآور شخصیات کی ضرورت ہے، ہمارے پاس اتنے ہی چھوٹے لوگ ہیں جو کہ صرف اپنی کرسیوں کے لیے لڑ رہے ہیں جبکہ ان کے اپنے بچے کرپشن میں ملوث ہیں۔ یہ لوگ عدالتوں سے لڑ رہے ہیں تو آپ خود دیکھیں کہ اس صورتحال میں ملک کیسے چل پائے گا۔

اسلام ٹائمز: یہ بات بڑی شدت سے محسوس کی جا رہی ہے کہ اس ملک میں صرف ایک خاص مکتبہ فکر کو ہی ٹارگٹ کیا جا رہا ہے، ایسا کیوں ہے۔؟جنرل ریٹائرڈ عبدالقیوم: اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ پاکستان کے اندر فرقہ وارانہ بیج تو موجود ہے، مختلف گروہوں کو مختلف ممالک سپورٹ کرتے ہیں، بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارے کچھ ان پڑھ لوگ انہی کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں۔ علمائے کرام نے ایک اچھا کردار ادا کیا ہے، متحدہ مجلس عمل بنانے کا اچھا اقدام تھا۔ اس میں شامل لوگ اس قسم کی نفرت کی بات نہیں کرتے بلکہ پیار اور تفہیم کے ساتھ بات کرنے کو ترجیح دیتے ہیں، لیکن پھر بھی انہیں جماعتوں کی صفوں میں کالی بھیڑیں گھس جاتی ہیں جو تفرقہ کا باعث بنتی ہیں۔

کافی لوگ اسلام کا لبادہ اوڑھ کر ایسا کام کر رہے ہیں، یہ لوگ اسلام کے دوست ہو سکتے ہیں اور نہ ہی پاکستان کے خدمت گزار۔ یہ صرف دشمنی کی خاطر اللہ اکبر کہہ کر دھماکہ کرتے ہیں جبکہ ایسا اسلام میں جائز ہی نہیں۔ یہ بات ٹھیک ہے کہ بیرونی ہاتھ ملوث ہے، لیکن اگر مذہبی جماعتیں ان ایشوز پر متفق ہو جائیں تو ان افراد کو بے نقاب کیا جا سکتا ہے۔ اب تو یہ پتہ نہیں چلتا کہ حکومت کس کے پاس ہے اور یہ ملک کون چلا رہا ہے، آیا صدر چلا رہا ہے یا فوج کے پاس ہے یا امریکہ چلا رہا ہے؟ کس کے پاس ہے؟ ایک اتھارٹی ہوتی ہے، جیسا کہ ایک چیف ایگزیکٹو ہوتا ہے، اسے پتہ ہوتا ہے کہ اس کے پیچھے پارلیمنٹ ہے، پارلیمنٹ اسے فیڈ کرے تو وہ ہر اچھا یا برا فیصلہ خود کرے گا، جیسا کہ دنیا میں رائج ہے۔

اسلام ٹائمز: میاں نواز شریف نے بیان دیا کہ ہمیں گیاری سیکٹر سے فوج کو یکطرفہ واپس بلا لینا چاہئے، آپ کیا کہتے ہیں۔؟جنرل ریٹائرڈ عبدالقیوم: ہمیں ساری اخلاقی باتوں کو ماننا چاہیے۔ اس پر نواز شریف نے اپنی وضاحت بیان کر دی ہے کہ معاہدہ ہونا چاہیے اور معاہدے کے بعد انخلاء ہونا چاہیے کیونکہ معاہدے کے بغیر تو پاکستان کبھی انخلاء نہیں کر سکتا ہے۔ کچھ صحافی حضرات ایسے ہیں جو اخباروں میں لکھ رہے ہیں اور کچھ جو بھارت کی محبت میں دیوانے ہیں وہ بھی یہ چاہتے ہیں کہ جو کچھ بھارت نے کر دیا ہے وہ ٹھیک ہے اور وہ معاف ہو جائے اور ہم وہاں سے دستبردار ہو جائیں۔ یوں کبھی نہیں ہوتا، کیونکہ یکطرفہ انخلاء وہ کر سکتا ہے جو حملہ آور ہو۔ اگر آپ کہیں کہ افغانستان کے اندر سے افغانی انخلاء کریں تو وہ کہاں جائیں گے۔ حملہ آور تو امریکہ اور اتحادی ہیں۔ کشمیریوں کو کہیں کہ آپ کشمیر سے انخلاء کریں یا پھر آپ فلسطینیوں کو کہیں کہ وہ غزہ کی پٹی سے یکطرفہ انخلاء کریں کیونکہ وہاں تو قابض اسرائیل ہے، لہٰذا یہ کبھی بھی نہیں ہو سکتا۔ صرف اور صرف بیٹھ کر بات چیت ہونی چاہیے اور پھر افواج پیچھے ہٹیں۔

اسلام ٹائمز: نیٹو سپلائی کی بحالی کیلئے پارلیمنٹ نے جو سفارشات منظور کی ہیں یا جو شرائط رکھی ہیں وہ درست ہیں۔؟جنرل ریٹائرڈ عبدالقیوم: میں یہ سمجھتا ہوں کہ جو شرائط رکھی گئی ہیں، ان میں کافی چیزیں اچھی ہیں، لیکن اصل بات یہ ہے کہ ان شرائط پر پارلیمنٹ عمل درآمد کروا سکے گی۔ کیا اس لیڈرشپ اور پارلیمنٹ میں اتنا دم خم ہے۔؟ جب آپ کے پیسے وہاں پر ہیں، اولادیں وہاں پر ہیں تو ان کے دل میں آپ کی عزت نہیں ہو سکتی، آپ کیا امریکہ سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ آپ کو کوئی حیثیت دے گا۔ پہلے بھی یہی ہوا ہے کہ امریکہ نے ڈرون ہمارے ہی اڈوں سے اڑائے اور ہمیں ہی مارا، اس کا مطلب یہی ہے کہ ہمارا سر اور ہمارے جوتے۔ بس میں تو یہی کہتا ہوں کہ اگر مضبوط حکومت ہو گی تو وہ اچھے ڈائیلاگ سے اچھی چیزیں انجام پا سکتی ہیں۔ بہرحال یہ نیٹو سپلائی بحال تو کر دیں گے، لیکن بعد میں پھر شور مچے گا۔ امریکہ کو چاہیے کہ وہ معافی مانگے اور افغانستان سے انخلاء کی بات کرے اور پاکستان کو یہ کہے کہ ہم نے آپ کی سرزمین سے اسلحہ گزارنا ہے اور یہ اسلحہ افغانستان سے واپس کراچی کی بندرگاہ سے نکلے گا اور ہم واپس لے جائیں گے، جس کی آپ سے اجازت چاہیے اور پاکستان کو اس کی اجازت دے بھی دینی چاہیے، لیکن پاکستان کی طرف سے اسلحے کو پاکستان کے اندر سے افغانستان جانے کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔

اسلام ٹائمز: دفاع پاکستان کونسل نے یہ اعلان کیا ہے کہ وہ نیٹو سپلائی کی بحالی کی صورت میں کنٹینروں کو راستوں پر روکیں گے۔ اس فیصلہ کو کیسے دیکھتے ہیں۔ کیا یہ اعلان ریاستی معالات میں دخل اندازی تصور نہیں ہو گا۔؟جنرل ریٹائرڈ عبدالقیوم: میں سمجھتا ہوں کہ اس سے حالات ٹھیک ہونے کی بجائے مزید خراب ہوں گے۔ دفاع پاکستان کونسل کو احتجاج کرنے کا تو حق ضرور ہے لیکن معاملات کو خراب کرنے اور کنٹینروں کو جلانے کا حق حاصل نہیں، کیونکہ جمہوریت اس بات کی کسی کو بھی اجازت نہیں دیتی۔ اگر حکومت وقت نے ایک غلط پالیسی پر عمل کیا ہے تو آپ صرف پارلیمنٹ کے باہر احتجاج کر سکتے ہیں لیکن جب آپ توڑ پھوڑ کریں گے تو حکومت بھی آپ کا ساتھ نہیں دے گی۔

اسلام ٹائمز: کیا انڈیا کو موسٹ فیوریٹ نیشن قرار دینا درست فیصلہ ہے۔؟جنرل ریٹائرڈ عبدالقیوم: اگر بھارت پاکستان کی راہداریوں سے تجارت کرنا چاہتا ہے تو ہم اس کو خوش آمدید کہیں گے، لیکن اس سے پہلے وہ دیرینہ مسائل حل کرے، جن میں پانی اور کشمیر کا اہم مسئلہ شامل ہے۔ میں تو یہ کہتا ہوں کہ بھارت بے شک پورے ایشیاء اور یورپ کے اندر کھل کر تجارت کرے لیکن اس کی بنیادیں مضبوط ہونی چاہیں۔ بنیادیں اس وقت تک مضبوط نہیں ہو سکتیں جب تک انڈیا کشمیر سے اپنا قبضہ ختم نہیں کرتا۔

اسلام ٹائمز: افغانستان کے حالات خراب سے خراب تر ہوتے جا رہے ہیں، کیا لگتا ہے کہ امریکہ اپنے اعلان کے مطابق دوہزار چودہ میں مکمل طور پر افغانستان سے انخلاء کر دے گا۔؟جنرل ریٹائرڈ عبدالقیوم: ہم یہ سمجھتے ہیں کہ 2001ء میں امریکیوں کے اگر 48 بندے ہلاک ہوئے تھے تو 2010ء میں 700 بندے ہلاک ہوئے ہیں، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ صورتحال خراب ہوئی ہے نہ کہ بہتری کی طرف جا رہی ہے۔ امریکہ کو چاہیے کہ افغانستان سے جلد از جلد اپنی جان چھڑائے اور نکل جائے، اس میں پاکستان کی مدد بھی حاصل کر لے۔ جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو پاکستان کو چاہیے کہ اپنے بارڈر سیل کر دے اور ہماری اس میں کوئی دخل اندازی نہیں ہونی چاہیے۔ اگر ہم اپنے آپ کو پاکستان کے اندر مضبوط کریں گے تو امریکہ ہمارے معاملات میں دخیل نہیں ہو سکتا۔

اسلام ٹائمز: امریکہ کے طالبان کے ساتھ قطر میں مذاکرات ناکام