27 اپریل 2012 - 19:30

کالعدم جماعت کے کارکنوں نے شیعہ علماء کانفرنس کے اشتہارات کو اتار کر اپنے اشتہارات لگانا شروع کیے اور اشتہاروں پر لکھے پنجتن پاک کے ناموں کی بیحرمتی کی گئی، جس سے جگڑا شروع ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے ہی اس آگ نے پورے شہر کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

ابنا:  شیعہ علماء کانفرنس کی طرف سے 29 مارچ کو خیرپور میں لبیک یاحسین ع کانفرنس کا انعقاد کیا جانا تھا جسے رکوانے کیلئے کالعدم تنظیم سپاہ صحابہ کے دہشتگردوں نے ٹھیک اسی جگہ اور اسی تاریخ کو لبیک یااللہ کانفرنس کے انعقاد کا اعلان کر دیا جس کے باعث شہر بھر میں کشیدگی بڑھ گئی۔ کالعدم جماعت کے کارکنوں نے شیعہ علماء کانفرنس کے اشتہارات کو اتار کر اپنے اشتہارات لگانا شروع کیے اور اشتہاروں پر لکھے پنجتن پاک کے ناموں کی بیحرمتی کی گئی، جس سے جگڑا شروع ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے ہی اس آگ نے پورے شہر کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ انتظامیہ نے کوشش کی کہ کالعدم جماعت فقط ایک دن کیلئے  کانفرنس مؤخر کر دے لیکن کالعدم جماعت کے دہشتگردوں کی جانب سے ایک نہ سنی گئی اور یوں گذشتہ شب شیعہ افراد پر فائرنگ کی گئی جس کے نتیجے میں سات مومنین زخمی ہو گئے۔ اس واقعہ کے اگلے ہی روز شیعہ علماء کونسل کی جانب سے خیرپور میں اس واقعہ کیخلاف احتجاج کیا گیا، اسی اثناء میں کالعدم جماعت کی طرف سے درجنوں شیعہ مومنین کی دکانیں کو آگ لگا دی گئی۔ پولیس کی جانب سے دہشتگردوں کو پکڑنے اور انہیں گرفتار کرنے کی بجائے شیعہ مومینین کے گھروں میں گھس گئی اور یوں چادر اور چار دیواری کو پامال کر کے 45 سے زائد شیعہ افراد کو گرفتار کر لیا گیا جبکہ کالعدم تنظیم کے صرف 20 افراد پکڑے گئے۔ انتظامیہ نے شہر میں کرفیو نافذ کر دی ہے، بے گناہ افراد کی گرفتاری کا سلسلہ جاری ہے۔

اسلام ٹائمز کے رابطہ کرنے پر ایم ڈبلیو ایم سکھر کے رہنماء پروفیسر نثار شیخ نے بتایا کہ ڈپٹی کمشنر سکھر غلام عباس بلوچ کی طرف سے یکطرفہ کارروائی کا سلسہ جاری ہے جس کا مقصد شیعہ علماء کونسل کے پروگرام کو سبوتاژ کرنا ہے، انہوں نے کہا کہ حیرانگی کی بات یہ ہے کہ مملکت پاکستان میں جہاں غیرمسلم تو اپنی کانفرنسز اور عبادات کھل کر سکتے ہیں لیکن شیعہ افراد کو اس کی اجازت نہیں ہے، اور شہر بھر میں کرفیو نافذ کر دی جاتی ہے، انہوں نے بے گناہ افراد کو بیلسنگ کی بنیاد پر گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ساری دنیا جاتی ہے کہ کالعدم نتظیم نے جان بوجھ کر اس پروگرام کو خراب کرنے کیلئے اپنا پروگرام رکھا، انتظامیہ کی ذمہ داری تھی کہ وہ انہیں روکتی لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔

شیخ نثار نے کہا کہ سردمہری کی انتہا ہے کہ چیف منسٹر سید قائم علی شاہ کا تعلق بھی خیرپور سے ہے مگر اس تمام صورتحال پر انہوں نے پراسرار خاموش اخیار کر رکھی ہے۔ انہوں نے وزیراعلیٰ سے مطالبہ کیا کہ وہ فوراً کالعدم تنظیم کے افراد کی گرفتاری کا حکم دیں اور کانفرنس کے انعقاد میں رخنہ ڈالنے والوں کو قانون کے شکنجے میں لائیں۔ انہوں نے بتایا کہ (جمعہ) سکھر ببرلو میں ایک گھنٹے کیلئے دھرنا دیا گیا اور انتظامیہ کو متنبے کیا گیا کہ وہ اس طرح کی حرکتوں سے باز آ جائے۔

.......

/169