ابنا: ان شخصیات کے مکمل طور پر محفوظ رہنے پر اظہار اطمینان و مسرت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ درحقیقت دنیائے عالم میں لاکھوں کی تعداد میں ان بزرگ علماء‘ مراجع عظام کے مقلدین اور پیروکار موجود ہیں جو دور حاضر کے تقاضوں کے مطابق دینی و دنیاوی امور پر ان سے رہنمائی حاصل کرتے ہیں۔
اس قسم کے بزدلانہ اقدامات دراصل ایک ایسی منصوبہ بندی کاحصہ ہیں جس کے ذریعہ عالم اسلام کو دین حق سے آشنائی و رہنمائی حاصل کرنے سے روکنا ہے اور ان میں اضطراب و بے چینی پیدا کرکے ان کی توجہ دور حاضر میں ان کی ذمہ داریوں سے ہٹانا ہے تاکہ وہ خوف و ہراس میں مبتلا ہوکر ان مراکز دینیہ سے رخ موڑلیں لیکن ایسا ان کی خام خیالی ہے۔
علامہ ساجد نقوی نے عراقی حکومت کے ذمہ داران پر زور دیا کہ وہ عراق میں امن و استحکام اور مقدس مقامات و شخصیات کی حفاظت کے لئے اور زیادہ بہتر اقدامات کرکے شرپسندوں کے عزائم ناکام بنائیں........ /169