23 اپریل 2012 - 19:30

مصر کے سابق ڈکٹيٹر کي موت کي خبر کي ترديد کر دي گئي ہے۔

ابنا: مصر کے بعض سيکورٹي ذرائع نے پير کے دن  کہا ہے کہ حسني مبارک کي موت کي خبر ميں کوئي صداقت نہيں ہے۔ مذکورہ ذرائع نے کہا ہے کہ مبارک کو ذہنی طور پريشان  ہے تاہم اس کي زندگي کو کوئي سنجيدہ خطرہ نہيں ہے۔

واضح رہے کہ حسني مبارک کو اسماعيليہ اور قاہرہ صوبوں کے درميان ايک اسپتال ميں رکھا گيا ہے۔اتوار کے روز اس طرح کي خبريں سامنے آئي تھيں کہ مبارک کي موت واقع ہو گئي ہے۔

اس وقت حسني مبارک اور اس کے دو بيٹوں علا اور جمال مبارک پر انقلابيوں کے قتل، مالي بدعنواني اور اسرائيل کو سستے داموں گيس فروخت کرنے کے الزام ميں مقدمہ چل رہا ہے۔

ياد رہے کہ گيارہ فروري دو ہزار گيارہ کو انقلابيوں کے دباؤ کے سبب حسني مبارک کو اقتدار چھوڑنا پڑا تھا اور اس نے اقتدارفوجي کونسل کے حوالے کر ديا تھا۔.......

/169