اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا کی رپورٹ کے مطابق شہید صلاح آل موسی کے بھائی حسین آل موسی نے العالم سے بات چیت کرتے ہوئے کہا: شہید بھائی کی میت ابھی تک ہماری تحویل میں نہيں دی گئی ہے اور میرے اہل خانہ کو ان کی میت دیکھنے کی اجازت نہیں دی گئی ہے کیونکہ میرے بھائی نے کی میت حاصل کرنے کے لئے رجوع کیا تو پولیس افسر نے کہا کہ میت تحویل لینے سے قبل ایک ضمانت نامے پر دستخط کرنے پڑیں گے اور میرے بھائی نے ایسا کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ہم کسی ضمانت نامے پر دستخط نہيں کریں جب تک ہمیں یہ نہيں بتایا جائے گا کہ شہید صلاح کے جسم پر موجود زخموں کی نوعیت کیا ہے، ان کے قتل میں کس قسم کا ہتھیار استعمال ہوا ہے لیکن پولیس افسر نے دعوی کیا کہ "آپ کے بھائی کو ہم نے نہیں مارا"۔
شہید صلاح کے بھائی نے کہا کہ جمعہ کے پرامن احتجاجی مظاہرے پر خلیفی گماشتوں نے حملہ کیا تو میرے بھائی "صلاح" کھیتوں کی طرف دوڑے اور اسی وقت سرکاری گماشتوں نے لوگوں پر شارٹ گنوں سے فائرنگ کردی اور بعد میں معلوم ہوا کہ میرے بھائی شہید ہوگئے ہیں لیکن ہمیں ان کی شہادت کی کیفیت کا علم نہیں ہے کیونکہ خلیفی وزارت داخلہ نے ہمیں ان کی لاش دیکھنے تک کی اجازت نہيں دی ہے لیکن ہم نے ان کا زخمی جسم دور سے دیکھا تھا جو خون میں نہایا ہوا تھا۔
انھوں نے کہا کہ شائع ہونے والی اطلاعات سے بھی ثابت ہے اور ان کے ہمراہ مظاہرے میں شریک افراد نے کہا کہ خلیفی گماشتوں نے تشدد کے بعد گولی مار کر شہید کردیا ہے اور جن لوگوں نے ان پر گولی چلائی ہے وہ عرب امارات کے لہجے میں عربی بول رہے تھے اور بظاہر خلیفی پولیس کے اہلکار تھے۔
انھوں نے کہا: ہم شہید کی زوجہ اور اہل خانہ کے ہمراہ شہید کے مقام شہادت پر حاضر ہوئے تو وہاں انسانی حقوق کے شعبے میں فعال راہنما ڈاکٹر نبیل رجب بھی وہاں موجود تھے اور دوسری طرف سے پولیس کی خاصی نفری بھی موجود تھی؛ ہم نے شہید کے مقام شہادت کو قریب سے دیکھنا چاہا تو خلیفی پولیس نے ہم پر فائرنگ کردی اور آنسو گیس کے شیل پھینکے اور پلاسٹک کی گولیاں چلائیں۔.......
/169
تفصیل کے لئے رجوع کیجئے:
انقلاب کرامت کا 434واں دنبحرین میں فارمولا ون یا فارمولا بلڈ/ انقلابی راہنما کی شہادت