ابنا: سيد شمس الدين حسيني نے جمعے کو گروپ چوبيس کے اجلاس ميں جو واشنگٹن ميں عالمي بينک اور آئي ايم ايف کے موسم بہار کے اجلاس کے موقع پر منعقد ہوا ہے کہا کہ گزشتہ سال اقتصادي بحران کي وجہ سے دنيا کے مختلف خطوں ميں عدم استحکام کي صورت حال پيدا ہوئي تھي تاہم اس وقت سب سے زيادہ تشويش کي بات يہ ہے کہ يورو زون ميں بحران اور بھي شدت اختيار کر رہا ہے اور ديگر خطوں ميں اس کے سرايت کر جانے کاک خدشہ ہے۔
سيد شمس الدين حسيني نے بعض حکومتوں کي جانب سے ايران کے خلاف عائد کي جانے والي يکطرفہ پابنديوں کا حوالہ ديتے ہوئے کہا کہ مثال کے طور پر ايران کي تيل کي برآمدات اور بينکنگ سسٹم پر يکطرفہ پابندياں مسلط کئےجانے کا انرجي کے بازار ميں عدم استحکام بڑھنے کے علاوہ کوئي نتيجہ نہيں نکلا ہے۔
ايران کے وزير خزانہ نے غربت کو مٹانے کے پروگراموں کي حمايت کا اعلان کرتے ہوئے دنيا ميں غريبوں اور اميروں کے بيچ فاصلہ بڑھنے پر تشويش ظاہر کي۔
انہوں نے تجويز پيش کي کہ گروپ چوبيس کے ممالک عملي اقدام کريں اور اسے اپنے لائحہ عمل کا حصہ بنائيں۔
گروپ چوبيس ميں، ايران، پاکستان، فلپائن، سري لنکا، شام، لبنان جيسے ايشيائي ممالک، برازيل، ارجنٹينا، ميکسکو، وينيزوئلا، کولمبيا، پيرو، گواٹےمالا، ٹرينيڈاڈ و ٹوبيگو جيسے لاطيني امريکا کے ممالک، جنوبي افريقا، مصر، الجزائر، نائيجيريا اور کانگو آئيوري کوسٹ اور گھانا جيسے افريقي ممالک شامل ہیں۔.......
/169