ابنا: اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر کے ابوموسی جزیرے کے دورے کے چند گھنٹے بعد متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ نے ایک گستاخانہ بیان میں اس دورے پر اعتراض کیا اور اسے اپنی سرزمین پر متحدہ عرب امارات کی حاکمیت کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔
اس مداخلت پسندانہ بیان کے بعد خلیج فارس تعاون کونسل کے وزرائے خارجہ نے بھی ایک ہنگامی اجلاس منعقد کیا۔
دوسری جانب امریکی وزارت خارجہ کے نائب ترجمان مارک ٹونر نے بھی اسی قسم کا مداخلت پسندانہ بیان دیتے ہوئے خلیج فارس میں تین ایرانی جزیروں کے بارے میں متحدہ عرب امارات کے بےبنیاد دعووں کی حمایت کی۔ مارک ٹونر نے متحدہ عرب امارات کی کوششوں کی تعریف کرتے
ہوئے کہا کہ ہم ایران سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ براہ راست مذاکرات، بین الاقوامی عدالت یا ایک بین الاقوامی اجلاس کے ذریعے اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے متحدہ عرب امارات کی تجویز کا مثبت طریقے سے جواب دے۔
اس مداخلت پسندانہ بیان کے بعد امریکی مفادات کے محافظ کی حیثیت سے تہران میں سوئٹزرلینڈ کے سفیر کو جمعہ کی رات وزرات خارجہ میں طلب کیا گيا اور امریکہ کے اس مداخلت پسندانہ بیان پر احتجاج کرتے ہوئے اس سلسلے میں امریکی حکومت سے وضاحت پیش کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔
اقوام متحدہ میں اسلامی جمہوریہ ایران کے مستقل نمائندے محمد خزاعی نے بھی سلامتی کونسل کے موجودہ صدر کے نام ایک خط میں اس بات پر زور دیا کہ یہ جزیرے ہمیشہ سے ایران کی سرزمین کا اٹوٹ حصہ رہے ہیں۔ محمد خزاعی نے اپنے خط میں کہا ہے کہ صدر مملکت ڈاکٹر محمود احمدی نژاد کا ابو موسی جزیرے کا حالیہ دورہ اور اس جزیرے میں انجام دیے گئے تمام اقدامات ایران کی ارضی سالمیت کے اصول اور حاکمیت کے حق کی بنیاد پر انجام پائے ہیں۔
اسلامی جمہوریہ ایران کی پارلیمنٹ کے نمائندوں نے بھی ایک بیان میں تین ایرانی جزیروں کے بارے میں متحدہ عرب امارات کے بےبنیاد دعووں کو مسترد کیا اور انہیں ایران کے داخلی امور میں مداخلت قرار دیا ہے۔
اگر ان جزیروں کی تاریخ پر ایک نظر ڈالی جائے تو متعدد ایسی دستاویزات اور ثبوت موجود ہیں جو ان پر ایران کی حاکمیت کو ثابت کرتے ہیں البتہ بعید لگتا ہے کہ عرب امارات کے حکام ان سے لاعلم ہوں گے اور انہیں ان کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ہوگی۔
اس بنا پر ان بےبنیاد دعووں کو مسترد کرنے پر مبنی قانونی پہلوؤں سے قطع نظر خلیج فارس کے علاقے میں سیاسی و اقتصادی مقاصد اور مفادات حاصل کرنے کے سلسلے میں ایران اور علاقے کے عرب ممالک کے تعلقات میں خلل اور اختلاف پیدا کرنے کے لیے مغرب کے اقدامات اور سازشوں کو بھی نظرانداز نہیں کرنا چاہیے اور امریکی حکام کے بیانات کا بھی اسی تناظر اور زاویے سے جائزہ لینا چاہیے۔
اسلامی جمہوریہ ایران نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا ہے کہ اپنے تینوں جزیروں ابوموسی، تنب بزرگ اور تنب کوچک پر اپنی حاکمیت اور ارضی سالمیت کے مسئلے پر مذاکرات نہیں کیے جا سکتے لیکن ایران ماضی کی طرح دوستانہ تعلقات اور اچھی ہمسائیگی کے تحت دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو زیادہ سے زیادہ مضبوط بنانے اور ممکنہ غلط فہمیوں کو دور کرنے کی راہوں کی جائزہ لینے کے لیے متحدہ عرب امارات کے ساتھ براہ راست دو طرفہ مذاکرات کا خیرمقدم کرتا ہے۔
اس میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے کہ ان جزیروں پر ہمیشہ ایران کی حاکمیت رہی ہے اور اسلامی جمہوریہ ایران اس حق کا پوری طاقت سے دفاع کرے گا۔.......
/169