ابنا: اسلامی جمہوریۂ ایران کی وزارت خارجہ نے عراق میں ہونے والے دہشت گردانہ واقعات کی مذمت کرتے ہوئے ان کو علاقے کے دشمنوں کی خدمت سے تعبیر کیاہے۔دارالحکومت بغداد سمیت عراق کے مختلف شہروں میں جمعرات کے روز ہونے والے دہشت گردانہ حملوں میں کم از کم اڑتیس افراد کے جاں بحق اور ایک سو ستر کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔بعض عراقی حکام اور جماعتوں نے مذموم اہداف کے حامل بیرونی عناصر اور القاعدہ گروہ کو عراق میں ہونے والے دہشت گردانہ واقعات کا ذمہ دار قراردیا ہے۔اس وقت شام اور عراق کو بعض علاقائي اور بین الاقوامی طاقتوں کی سازشوں کا سامنا ہے۔اس میں کوئي شک نہیں ہے کہ کچھ ممالک میں افرا تفری پیدا کرکے علاقے میں بدامنی پھیلانا اور اس کو غیر مستحکم کرنا انہیں لوگوں کا کام ہے جو شام اور عراق میں ہونے والی قتل و خونریزی میں ملوث ہیں۔
ایسا لگتا ہے کہ جب سے قابض امریکی فوجیوں نے عراق سے پسپائي اختیارکی ہے تب سے امریکی حلقوں سے وابستہ دہشت گرد گروہوں کی سرگرمیوں میں شدت پیدا ہوئی ہے اور حالیہ چند مہینوں میں عراق میں کئی بار دہشت گردانہ اور خونریزی کے واقعات رونما ہوئے ہیں۔امریکی حکام ایسے موقع کے منتظر ہیں کہ جس سے عراق میں ایک بار پھر اور وہ بھی قانونی طریقے سے اپنی موجودگی ممکن بناسکیں۔امریکی حکام عراق میں اپنے ایجنٹوں کے ذریعہ اپنے اہداف حاصل کرنے کی کوشش میں ہیں۔امریکہ نے ہمیشہ سیکورٹی کے مسائل کو عراق میں اپنی فوجی موجودگي کا جواز بنا کر پیش کیا ہے اوراب بھی امریکی حکام عراق میں بد امنی پھیلا کر عراق کی صورت حال کو کنٹرول کرنے کے سلسلہ میں حکومت عراق کی کارکردگي پر سوالیہ نشان لگانے کی کوشش کر رہے ہیں۔دریں اثنا عراق میں رونما ہونے والے دہشت گردانہ واقعات اور تشدد کو ہوادینے کے سلسلہ میں علاقہ کے بعض عرب ممالک کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔
سعودی عرب خلیج فارس کے جنوبی علاقے کے ان عرب ممالک میں شامل ہے جن کی ناراضگي حالیہ برسوں میں عراق میں اقتدار کی تقسیم کے سلسلہ میں ڈھکی چھپی نہیں رہی ہے۔آج بھی شام مخالف مغرب اور بعض عرب ملکوں کا متحدہ محاذ موجود ہے اور سعودی عرب اور قطر شام مخالف متحدہ عرب محاذ کے رہنما ہونے کی حیثیت سے علاقے کے کچھ ممالک سے اپنا بدلہ لینے کے لئے ان حالات سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔سعودی عرب اور قطر نے شامی حکومت کے مخالفین کو مضبوط کرنے کی کوششوں کے ساتھ ساتھ عراق میں سرگرم دہشت گرد گروہوں سے رابطہ قائم کیا ہے اور حکومت عراق کے مخالف بعض سیاسی گروپوں کے رہنماؤں کی حمایت بھی کی ہے۔
سعودی عرب کے بعض حکام نے باقاعدہ طور پر عراق میں سرگرم دہشت گرد گروہوں کے مالی اخراجات پورے کرنے کی ذمہ داری بھی لی ہے نیز حال ہی میں قطر اور سعودی عرب نے عراق کے مفرور نائب صدر طارق الہاشمی کی میزبانی بھی کی ہے۔طارق الہاشمی عراق سے فرار ہیں اور ان پر عراق میں ہونے والے دہشت گردانہ واقعات میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔یہ مسائل اس بات کے غماز ہیں کہ قطر اور سعودی عرب نے عراق سے دشمنی کا پرچم بھی بلند کررکھا ہے۔مالکی حکومت کو کمزور کرنے اور عراق میں سیاسی کشیدگی پیداکرنے کی غرض سے عراق کو عدم استحکام کی طرف دھکیلنا عراق میں دہشت گردانہ واقعات میں ملوث عناصر اور ان کے عرب اور مغربی حامیوں کا ہدف ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ علاقے کے کسی بھی ملک میں ہونے والی بدامنی علاقائی امن و سلامتی خطرے میں پڑجانے کے مترادف ہے جس کے منفی اثرات تمام علاقائی ممالک پر پڑيں گے۔ .......
/169