ابنا: سپریم کورٹ نے بلوچستان میں امن وامان سے متعلق کیس میں کہا کہ صوبے میں امن وامان کے قیام میں وفاق اورصوبائی حکومت مکمل طورپرناکام ہوچکی ہیں ۔ حکومت اورلیویزعوام کوتحفظ فراہم کرنے کیلئے اپنا کرداربہترادا کرتی تواتنی قتل وغارت نہ ہوتی ۔ منگل کوبلوچستان میں امن وامان سے متعلق کیس کی سماعت چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخارمحمد چوہدری کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی ۔
سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں روزانہ معصوم اہل تشیع مررہے ہیں ۔ ایک انسانی جان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے ۔ ہمیں ہرشہری کا احترام کرنا ہوگا اورحکومت شیعہ سنی میں امتیاز نہ کرے ۔ چیف جسٹس نے چیف سیکرٹری بلوچستان کوحکم دیا کہ ایک ماہ کے دوران ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنے والے اہل تشیع افراد کا ریکارڈ عدالت میں پیش کیا جائے ۔
.......
/169