بے شک ولایت فقیہ کی کارکردگیاں بہت وسیع ہیں جبکہ مرجعیت کی کارکردگیاں محدود ہیں۔ مرجع کا کام بیان احکام ہے جبکہ تبلیغ دین اور دینی احکام بیان کرنے کے علاوہ ولی فقیہ کی یہ بھی ذمہ داری ہے کہ وہ معاشرے میں ان احکام کے عملی نفاذ کی ذمہ داری بھی نبھائے۔
یہاں ہم ابتداء میں معاشرے میں ولایت فقیہ کی ضرورت، ولایت فقیہ کے فلسفے اور اس کے فرائض (اور Function) کا جائزہ لیتے ہیں اور پھر مرجعیت اور ولایت فقیہ کے فرائض کے درمیان فرق کی طرف اشارہ کرتے ہیں:
پہلا سوال: معاشرے کو سیاسی زعامت اور ولایت کی ضرورت کیوں ہے؟دوسرا سوال: اسلامی معاشرے میں یہ سیاسی زعامت جامع الشرائظ فقیہ کے لئے کیوں قرار دی گئی ہے؟
انسانی معاشرہ مختلف افراد سے تشکیل پاتا ہے؛ ہر فرد کے الگ الگ مفادات، دلچسپیاں اور ذائقے اور سلائق ہیں جو ایک دوسرے سے بالکل مختلف، متعارض اور بعض مواقع پر متضاد ہوتے ہیں چنانچہ اس کے لئے حکومت کی ضرورت ہے۔ انسانی معاشرہ ـ چاہے بہت مختصر اور ایک قبیلے یا ایک گاؤں میں رہنے والے افراد کی حد تک ہی محدود کیوں نہ ہو ـ نظام اور حاکمیت کا محتاج ہے۔ مفادات کا تصادم، افراد کے درمیان اختلافات اور نظم و امن میں خلل، ایسے مسائل ہیں جن کو حل کرنے اور نظم و امن بحال کرنے کے لئے مقتدر اور معتبر اداروں کی ضرورت ہے؛ چنانچہ اگر معاشرے میں سیاسی قوت، فیصلہ سازی، نفاذ قوانین اور امر و نہی کی طاقت کی حامل حکومت نہ ہو تو وہ معاشرہ ناقص ہوگا اور اپنی بقاء کی صلاحیت کھودے گا۔
امیرالمؤمنین علیہ السلام نے ـ لا حکم الا للہ کا نعرہ لگانے والے اور حکومت و امارت کی نفی پر اصرار کرنے والے اور انسانوں پر اللہ تعالی کی براہ راست حاکمیت کا دعوی کرنے والے ـ خوارج کے جواب میں فرمایا:
"كَلِمة حَق یُرادُ بِهَا باطِلٌ! نَعَم اِنَّهُ لا حُكمَ اِلا لِلّهِ، وَ لكِنَّ هؤلأِء یَقوُلوُنَ لا اِمرََْة اِلا لِلّهِ. وَ اِنَّهُ لابُدَّ لِلنّاسِ مِن اَمیرً بَر اَو فاجِرً یَعمَلُ فِى اِمرَتِهِ المؤمِنُ، وَ یَستَمتِعُ فیِهَا الكافِرُ، وَ یُبَلِّغُ اللهُ فیِهَا الاَجَلَ وَ یُجمَعُ بِهِالفى ُ وَ یُقاتَلُ بِهِ العَدُوُّ، وَ تَأمَنُ بِهِ السُّبُلُ وَ یُوخَذُ بِهِ لِلضَّعیفِ مِن القَوىِّ، حَتّى یَستَریحَ بَرُّ وَ یُستَراحُ مِن فاجِرً. حُكمَ الله اَنتَظِرُ فیِكُم. اَمَّا الامرَُْة البَرَُّْ فَیَعمَلُ فیِهَا التَّقىُّ وَ اَمّا الامرَُْة الفاجِرَُْ فَیَتَمَتَّعُ فیِهَا الشَّقِى اِلى اَن تَنقَطِعَ مُدَّتُهُ وَ تُدرِكَهُ مَنِیَّتُهُ"۔
(نهج البلاغه ، خطبه 40) .
کلمۂ حق ہے جس سے باطل مطلب لیا گیا ہے۔ بے شک کوئی حکم اور کوئی فیصلہ فرمان خدا اور اللہ کے فیصلے کے سوا کچھ نہيں ہے جبکہ لوگوں کے لئے ایک حاکم کی ضرورت ہے چاہے وہ نیک ہو یا بد؛ تا کہ مؤمنین حکومت کے سائے میں اپنے کام میں مصروف ہوں اور کافر بھی ہہرہ مند ہوں اور لوگ حکومت کے سائے میں زندگی بسر کریں، حکومت کے وسیلے سے بیت المال جمع ہوتا ہے اور اس کی مدد سے دشمنوں کے خلاف لڑا جاتا ہے، اور راستوں کو محفوظ بنایا جاتا ہے، طاقتوروں سے کمزوروں کا حق لیا جاسکتا ہے، اور حکومت کے وسیلے سے نیک انسان امن و امان سے اور بدکاروں کے ہاتھوں سے محفوظ ہیں؛ لیکن نیک حکمرانوں کی حکومت میں پرہیزگار لوگ اپنے فرائض بہتر انداز سے انجام دیتے ہيں جبکہ بدکاروں کی حکومت سے ناپاک لوگ بہرہ مند ہوتے ہیں حتی کہ اس کی زندگی کا خاتمہ ہو جائے اور اس کی موت آن پہنچے۔
سیاسی ولایت کی ضرورت انسان کی ذاتی کمزوریوں میں مضمر نہیں ہے بلکہ انسانی اجتماع کے نقائص اور کمزوریوں میں مضمر ہے چنانچہ اگر ایک معاشرہ نیک انسانوں سے تشکیل پایا ہو اور اس کے سارے افراد نیک و صالح، شائستہ اور قابل انسان ہوں پھر بھی اس کے لئے سیاسی ولایت یا حکومت کی ضرورت ہے، کیونکہ ایسے بہت سے امور و معاملات ہیں جو فردی نہيں ہیں بلکہ ان کا تعلق معاشرے اور اجتماع سے ہے اور ان کے لئے اجتماعی فیصلہ سازی کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ اس کو معاشرتی سطح پر نافذ کیا جاتا ہے؛ اور ایک فرد، اس لئے کہ ایک فرد ہے، ان امور میں فیصلہ ساز نہیں ہوسکتا۔
سیاسی نظامات کے مابین ـ "اقتدار کی تقسیم کی کیفیت و نوعیت"، "صاحبان قدرت کی حالت"، "سیاسی اقتدار سنبھالنے کی کیفیت و نوعیت"، "سیاسی اقتدار واگذار کرنے میں عوام کے کردار" وغیرہ کے سلسلے میں ـ اختلاف، پایا جاتا ہے ورنہ اس بات میں کوئی اختلاف نہيں ہے کہ انسانی معاشرے کو سیاسی ولایت و زعامت کی ضرورت ہے اور تمام نظام ہائے حکومت اس بات پر متفق ہیں اور اس کے مخالفین صرف وہ انارکسٹ (Anarchist، نراجی یا افراتفری کے خواہاں) لوگ ہیں جن کی نہ تو تعداد بہت زیادہ ہے اور نہ ہی ان کے پاس کوئی قابل قبول دلیل ہے۔
اب سوال یہ کہ تشیع کے سیاسی تفکر میں عصر غیبت میں سیاسی زعامت و ولایت جامع الشرائط فقیہ کے سپرد کیوں کی گئی ہے؟ اور جواب بھی یہ ہے کہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ مسلمانوں کے امور و معاملات کو شریعت کی تعلیمات پر منطبق کرلے اور عوام کی زندگی کو شریعت کے تقاضوں کے مطابق آگے بڑھائے۔
یعنی یہ کہ دینی حکومت کی ذمہ داری ہر قیمت پر امن و امان برقرار کرنا اور لوگوں کو خوشحال زندگی فراہم کرنا ہی نہيں ہے بلکہ اس کو معاشرے کے تمام معاملات اور تمام روابط کو دین کے احکام، اصولوں اور اقدار کے مطابق کرنا چاہئے اور اس مہم کے لئے ضروری ہے کہ اسلامی معاشرے کے مدیر و منتظم کو اگر ایک طرف سے زبردست انتظامی صلاحیتوں سے بہرہ مند ہونا چاہئے تو دوسری طرف سے اس کو ان امور و معاملات میں اللہ کے احکام سے سب سے زیادہ آگہی حاصل ہونی چاہئے اور سماجی و سیاسی معاملات میں فقاہت لازمہ کا مالک و حامل ہونا چاہئے۔امیرالمؤمنین حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام نے فرمایا:
"أيها الناس ان احق الناس بهذا الامر أقواهم عليه و أعلمهم بأمر الله فيه"۔
ترجمہ: اے لوگو! امامت و خلافت کا سب سے زیادہ اہل اور حقدار وہ شخص ہے جو اس کا انتظام چلانے کی سب سے زيادہ قوت رکھتا ہو اور حکومت کے معاملے میں اللہ کے فرامین کا سب سے بڑا عالم ہوتا ہے۔ (نہج البلاغہ خطبہ 173)
چنانچہ اسلامی معاشرے کے لئے سیاسی ولایت و زعامت کی ضرورت ہے جیسا کہ غیراسلامی معاشروں کو بھی بعض نقائص برطرف کرنے اور معاشرتی مسائل حل کرنے اور امن اور نظم و ضبط کے قیام کے لئے حکومت کی ضرورت ہے۔
اسلامی معاشرے میں امام معصوم علیہ السلام کی غیبت کے دور میں یہ سیاسی ولایت و زعامت ایسے جامع الشرائط فقیہ کو دی گئی ہے جو علمی، اخلاقی اور انتظامی حوالے سے سب سے زیادہ قابلیت اور اہلیت کا مالک ہو اور مرتبے کے لحاظ سے امام معصوم علیہ السلام سے سب سے زیادہ قریب ہو کیونکہ اسلامی معاشرے کے انتظام و انصرام کے لئے انتظامی اہلیت سے بھی زیادہ اسلامی شناسی اور فقہ شناسی کی ضرورت ہے۔
مختصر یہ کہ اسلامی معاشرے میں دین کا نفاذ پہلی ترجیح ہے اور دین کا نفاذ ایک فقیہ سے بہتر کوئي اور نہيں کرسکتا چنانچہ ایسے معاشرے کو فقیہ کی حکومت ہی درکار ہوتی ہے نہ کسی اور کی۔
دوئم: مرجعیت اور ولایت فقیہ کا فرق
اب جو ہم اجمالی طور پر ولایت ففیہ کے فلسفے اور کارکردگی یا فنکشن سے واقف ہوچکے تو یہ سوال قابل غور ہے کہ کیا مرجعیت اس فریضے کی ادائیگی کے لئے کافی ہے؟مرجع اور ولی فقیہ کے درمیان فرق کا جائزہ لیتے ہوئے چند نکتے قارئین کی نذر کرتے ہیں:
1۔ شرائط میں فرق
مرجع اصطلاحی طور پر جامع ال