16 اپریل 2012 - 19:30

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے آل خلیفہ کی طرف سے پرامن مظاہرین کے خلاف تشدد آمیز کاروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ مظاہروں کے سلسلے میں عوام کا حق تسلیم کیا جانا چاہئے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی - ابنا - کی رپورٹ کے مطابق سیکریٹری جنرل بان کی مون کے ترجمان مارٹن نیسرکی (Martin Nesirky) نے کہا ہے کہ سیکریٹری جنرل بحرین میں پر امن مظاہرین پر سرکاری جبر و تشدد کی مذمت کرتے ہيں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ عوام کا مظاہرے کرنے کا حق تسلیم کیا جائے۔بان کی مون اور اقوام متحدہ گذشتہ 13 مہینوں سے بحرینی عوام پر آل خلیفہ کے تشدد پر مکمل طور پر خاموش ہے اور اب گویا بان کی مون کومے سے خارج ہوئے اور اور سن کر فکرمند ہوگئے ہيں!۔نیسرکی نے کہا کہ بحرین میں حکومت کی طرف سے تشدد کی کاروائیوں کے نتیجے میں غیرفوجی شہری بدستور زخمی ہورہے ہیں۔جناب بان کی مون نے بحرینی حکومت کے ہاتھوں شہید ہونے والے شہریوں کی طرف کوئی اشارہ نہیں کیا ہے؛ بان کی مون اور ان کے ترجمان نے آل خلیفہ کے کرائے کے بیرونی قاتلوں اور غنڈوں کے ہاتھوں لوگوں کی بے حرمتی، تلواروں اور نیزوں سے حملے اور لوگوں کے حقوق کی وسیع پامالی کی طرف بھی کوئی اشارہ نہيں کیا ہے اور اکثریتی عوام پر اقلیت کی ناجائز حکومت اور آل سعود کی طرف سے بحرین پر جارحیت کی طرف بھی اشارہ کرنے کی زحمت بھی نہيں اٹھائی ہے اور نہ ہی ہزاروں افراد کی بے دخلی، عام شہریوں پر فوجی عدالتوں میں مقدمہ چلائے جانے یا ڈاکٹروں کو زخمیوں کا علاج کرنے کی سزا دینے کی طرف بھی کوئي اشارہ نہیں کیا ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ بان کی مون نے "متنازعہ فریقوں" سے کہا ہے کہ صبر و تحمل سے کام لیں اور تشدد کا دامن تھامنے سے پرہیز کریں جبکہ بحرین میں عوام مظاہرے کررہے ہيں جبکہ ان کے پاس نہ تو ہتھیار ہیں اور نہ ہی وہ تشدد کے راستے پر گامزن ہوئے ہیں اور حکومت انہیں کچل رہی ہے اور اس سلسلے میں آل خلیفہ کو بیرونی ممالک کے فوجیوں اور امریکہ اور یورپ کی فوجی امداد بھی حاصل ہے جبکہ امریکہ کہ پانچواں بحری بحری بیڑا بھی بحرین میں تعینات ہے۔

.......

/169

تفصیل کے لئے رجوع کیجئے:

14، 15 و 16 اپریل؛ بحرین کی خاص خاص خبریںبحرین کے انقلاب کرامت کا 427واں دن/ خلیفی غنڈوں نے ایک نوجوان کو کچل کر شہید کردیا/ اپڈیٹس