16 اپریل 2012 - 19:30

صحافی اور سعودی عرب کے حالات پر نظر رکھنے والے تجزیہ نگار، محمد زیاد نے آل سعود کے خلاف شروع ہونے والی تحریک کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ احتجاجی تحریک دیارالحرمین کو اپنے صحیح مقام پر لوٹائے گی کیونکہ آل سعود خاندان ایسی سرزمین پر حکومت کررہا ہے جس کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی - ابنا - کی رپورٹ کے مطابق، محمد زیادہ نے 21 مارچ کو کہا تھا کہ جزیرہ نمائے عرب کی سرزمین آج اصولوں کی طرف واپسی اور آل سعود کی حکومت سے چھٹکارا حاصل کرنے کی کوشش کررہی ہے۔انھوں نے سعودی مفتی کی طرف سے سعودی عرب اور بحرین میں مظاہروں کی ممنوعیت پر مبنی فتوے کی شدید مذمت کی اور کہا: یہ مفتی سعودی عرب اور بحرین میں مظاہروں کو حرام سمجھتا ہے لیکن اسی اثناء میں شامی حکومت کے خلاف مظاہروں کو جائز سمجھتا ہے اسی اساس پر آل سعود کی حکومت جامعات میں طلبہ کو کچلتی ہیں۔محمد زیاد نے کہا آل سعود کے حکمرانوں کے امتیازی رویوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ کہ آل سعود عوام کو القطیف اور دوسرے علاقوں میں فرقہ وارانہ بنیادوں پر کچل دیتی ہے، انہیں قتل کرتی اور اپنے مخالفین کو جیلوں میں ڈالتی ہے اور انہیں شدید تر تشدد اور ٹارچر کا نشانہ بناتی ہے۔زیاد نے غربت اور نادارای کو بھی آل سعود کے زوال کی ایک اور علامت قرار دیا اور کہا کہ سعودی معاشرے میں غربت گھر کر گئی ہے، قومی دولت شہریوں کے درمیان تقسیم نہیں ہوا کرتی اور بیشتر عوام غرب اور افلاس کی زندگی بسر کر رہے ہیں جبکہ آل سعود کے شہزادے تیل کے کنوؤں کے مالک بنے ہوئے ہیں اور حکمران خاندان کے اندر بدعنوانی بھی زوروں پر ہے۔واضح رہے کہ قطر کے امیر حمد بن خلیفہ آل ثانی اور ان کے وزیر اعظم اور اندرونی حریف حمد بن جاسم بن جبر آل ثانی نے کئی بار سعودی خاندان کا تختہ الٹنے اور پورے جزیرہ نمائے عرب پر حکومت کرنے کا عندیہ دیا ہے اور دوحہ میں وہابیوں کے پیشوا محمد بن عبدالوہاب کے نام پر مسجد بنا کر اعلان کیا ہے کہ قطر ہی وہابیت کا عالمی مرکز ہے اور ادھر حکومت تک پہنچنے سے مایوس متعدد سعودی شہزادوں نیز بعض مفتیوں نے بھی آل سعود کو ہٹانے کے سلسلے میں ال ثانی خاندان کو حمایت کی یقین دہانی کرائی ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آل سعود خاندان کے دن واقعی بہت کم رہ گئے ہیں۔

.......

/169

تفصیل کے لئے رجوع کیجئے:

ہیریٹیج انسٹٹیوٹ - فارن پالیسی ـ بارک اوباما:آل سعود کا زوال آبنائے ہرمز کی بندش سے زيادہ خطرناک / آل سعود کا زوال قریب ہے / آل سعود ڈکٹیٹر ہے