ابنا: افغانستان کی وزارت داخلہ کے ترجمان صدیق صدیقی نے گزشتہ روز کہا کہ افغان سیکورٹی فورسز اور طالبان جنگجوؤں کے درمیان ہونے والی جھڑپیں اتوار کی رات ختم ہوگئیں۔ افغانستان کے دارالحکومت کابل میں ہونے والے حملوں میں طالبانی جنگجوؤں نے امریکہ ، برطانیہ، جرمنی اورجاپان کے سفار تخانوں سمیت کابل کے قریب نیٹوکے ایک ہیڈ کوارٹر کو نشانہ بنایا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق طالبان گروہ نے ایک ہی وقت میں افغانستان اور پاکستان میں دو حملے کرکے، کہ جس کامقصد اس ملک کے چار سو قیدیوں کو بھگانا تھا، کوشش کی ہے کہ امریکہ ، نیٹو اور حکومت افغانستان و پاکستان کے سامنے اپنی طاقت و قدرت کا اظہار کرے اور یہ موضوع کئی وجہوں سے قابل غورو فکر ہے۔
1-ظاہر ہوتا ہے کہ یہ حملے طالبان کے آپسی اختلافات کی عکاسی کرتے ہیں کیونکہ طالبان کے بعض گروہ نے اس گروہ کے سرغنہ ملا عمرکے امریکہ سے مذاکرات کرنے پر تنقید کی ہے اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ مخالف گروہ نے اس کے ذریعے اس بات کی کوشش کی ہے کہ کابل میں وسیع پیمانے پر تشددآمیز کاروائیاں انجام دے کر ثابت کردیں کہ ہم ایسے ہی اپنی مسلحانہ کاروائیاں جاری رکھیں گے جو امریکہ کے لئے بھی ایک دھمکی شمار ہوگی۔
اسی بنا پر حکومت افغانستان کے اعلی حکام نے کابل کے وسیع حملے کا الزام حقانی گروہ پر عائد کیا ہے چونکہ اس گروہ نے پہلے بھی افغانستان کے دارالحکومت کابل میں مختلف اداروں ،ہوٹلوں اور سفارتخانوں پر حملے کئے تھے اس لئے یہ الزام بے مورد نہیں ہے۔دوسری چیز یہ کہ کابل میں طالبان کے حملہ کرنے کا مقصدامریکی مذاکرات میں توازن کا برقرارکرنا ہے
تیسری چیز یہ کہ طالبان اور امریکہ کے مذاکرات کے بارے میں وسیع تنقیدیں ہیں۔بعض سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ طالبان نے کابل میں وسیع پیمانے پر حملہ کرکے اس بات کو ظاہر کرنے کی کوشش کی ہے کہ غاصبوں سے مقابلے کے لئے اس نے جو پالیسیاں پہلے اپنائی تھی اس کی آج بھی پابنداوروفادار ہے اوراس کے ذریعے امریکہ کے ساتھ طالبان کی بعض مذموم نظریوں کو باطل قرار دیدے۔
بحر حال نیٹو کے حکام کے مطابق کہ افغانستان کی سیکورٹی فورس نے طالبان کے حملے میں مدد کی درخواست نہیں کی ہے اور کوشش کی اور حالات پر قابو پالیا ہے یہ طالبان جنگجوؤں سے مقابلہ کرنے کی طاقت رکھتی ہے لیکن افغانستان کے دار الحکومت کابل میں طالبان کی تشدد آمیز کاروائیوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ افغانستان پر غاصبانہ قبضے کے مدتوں گزرجانے کے باوجود کابل کے حالات اب بھی کشیدہ ہیں اور امریکہ اور نیٹو جو افغانستان میں امنیت برقرار کرنے میں ناکام ہوگئے ہیں وہ اس ملک پر مزید قبضہ جاری رکھتے ہوئے افغانستان میں اپنے فوجیوں کی موجودگی کی توجیہ کر سکتے ہیں۔....... /169