ابنا: صہیونی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے اس اجلاس کے مثبت نتائج پر اپنے غم و غصے کا اظہار کرتے ہوۓ مذاکرات کا اگلا دور عراق کے دارالحکومت بغداد میں منعقد کرنے پر فریقین کے اتفاق راۓ کو ایران کے لۓ ایک تحفے سے تعبیر کیا ہے۔
استنبول مذاکرات کے مثبت نتائج کے پیش نظر صہیونی حکام کا غم و غصے میں مبتلا ہونا قابل فہم ہے۔ کیونکہ بعض یورپی سیاسی حلقے اور صہیونیوں سے وابستہ ذرائع ابلاغ اس اجلاس کے شروع ہونے سے پہلے اس کے بے نتیجہ ہونے کا تاثر ظاہر کررہے تھے۔ ان حلقوں نے اس نظریۓ کی بنیاد پر کہ یورپ کی جانب سے ایران پر ڈالے جانے والے دباؤ کی وجہ سے ایران اپنے موقف سے پسپائی اختیار کر لے گا گروپ پانچ جمع ایک کو ایران کے ساتھ مذاکرات سے باز رکھنے کی کوشش کی تاکہ بزعم خویش ایران کے خلاف فوجی کارروائی کی دھمکی پر عملدرآمد کا راستہ ہموار کر سکیں۔
اسلامی جمہوریہ ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے نمائندے پندرہ ماہ کے بعد چودہ اپریل ہفتے کے دن ایک بار پھر استنبول میں اکھٹے ہوۓ اور انھوں نے ایران کے ایٹمی پروگرام کے بارے میں مذاکرات انجام دیۓ۔
ایرانی وفد نے گروپ پانچ جمع ایک کے نمائندوں کے ساتھ باضابطہ مذاکرات سے قبل ان کے ساتھ دو طرفہ گفتگو کی۔ البتہ امریکی نمائندوں کو اس بات چیت میں شامل نہیں کیا گيا۔ جس کے بعد گروپ پانچ جمع ایک کے نمائندوں نے ان مذاکرات کی کامیابی کی امید کے ساتھ ان میں شرکت کی۔
اسلامی جمہوریہ ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے درمیان اس سے قبل دسمبر دو ہزار دس اور جنوری دو ہزار گیارہ میں بھی مذاکرات ہوۓ تھے جو یورپ والوں کی جانب سے ملت ایران کے حقوق پامال کۓ جانے اور ایران کےایٹمی پروگرام کے لۓ شرائط معین کۓ جانے کے باعث کسی خاص نتیجے کے حصول کے بغیر ہی ختم ہوگۓ۔ حالیہ دور کے مذاکرات میں باہمی تعاون اور اشتراک عمل کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو برطرف کرنے کے لۓ مذاکرات پر مبنی ایران کے رویۓ نے گروپ پانچ جمع کے نمائندوں کو ان مذاکرات کے بے نتیجہ ہونے کا سبب بننے والے موقف اور طرز عمل کی بابت خبردار کر دیا جس کی وجہ سے اس مرتبہ گروپ پانچ جمع ایک کے نمائندے بغیر کسی پیشگی شرط کے ان مذاکرات میں شریک ہوۓ اور انھوں نے باہمی جامع تعاون کی حکمت عملی کی تدوین کے لۓ مذاکرات جاری رکھنے سے اتفاق کیا۔ یاد رہے کہ مذاکرات کا اگلا دور تیئیس مئی کو بغداد میں ہوگا۔
امریکہ کی اعلی قومی سلامتی کونسل کے نائب مشیر بن رودز نے بھی استنبول مذاکرات کو ایک مثبت قدم قرار دیا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ ایران کے بارے میں یورپ کے موقف میں تبدیلی کی اصل وجہ ایران مخالف شدید پابندیوں کی ناکامی ہے۔ امریکی صدر باراک اوباما نے بھی حالیہ مہینوں میں ایران مخالف شدید ترین پابندیوں کا اعتراف کرنے کے ساتھ ساتھ کہا ہے کہ ان مذاکرات میں پیشرفت حاصل ہورہی ہے۔ البتہ اس موقف سے صہیونی حکام غم و غصے میں مبتلاء ہوچکے ہیں۔ اور جس چیز کو صہیونی وزیر اعظم نے ایران کے لۓ تحفہ قرار دیا ہے اس سے در حقیقت استنبول مذاکرات کی پیش رفت کے سلسلے میں اسلامی جمہوریہ ایران کی کامیابی کی عکاسی ہوتی ہے کیونکہ ایران کی تجویز پر ہی بین الاقوامی موضوعات کے سلسلے میں آپس میں وسیع اور جامع تعاون کے لۓ مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔.......
/169