14 اپریل 2012 - 19:30

بحرين ميں عوام کي انقلابي تحريک نئے مرحلے ميں داخل ہوگئي ہے جس کے تحت اتوار سے پورے ملک ميں ہفتہ پائيداري منايا جارہا ہے۔

ابنا: بحرين کے عوام کا انقلاب نئے مرحلے ميں داخل ہو گيا ہےـ جيسے جيسے آل خليفہ حکومت اپنے مظالم ميں شدت لاتي جا رہي ہے، سياسي و عوامي تنظيميں اور بھي مستحکم اور پرعزم ہوکر آمر حکومت کا مقابلہ کر رہي ہيں ـ ملک کي انقلابي تنظيموں نے اسي ضمن ميں رواں ہفتے کو ہفتہ استقامت و پائيداري کا نام ديا ہے اور اتوار کا دن ہفتہ استقامت وپائيداري کا پہلا دن ہےـ   اس مناسبت سے منامہ کے نواحي علاقے  سلم آباد کے علاقے ميں عوام نے شاہي حکومت کے خلاف زبردست مظاہرے کئے۔

الوفاق، الوعد، الاخاء، الوحودي، القومي جيس جماعتوں نے عوام سے ہفتہ استقامت و پائيداري کے  مظاہروں ميں بڑھ چڑھ کر حصہ لينے کي اپيل کي ہے  اور انقلاب کے اہداف حاصل ہو جانے تک پرامن تحريک جاري رکھنے کي ضرورت پر زور ديا ہے ـ بحرين کے  عوام کا ايک اہم مطالبہ يہ بھي ہے کہ تمام سياسي قيديوں کو جيلوں سے رہا کيا جائے۔

حاليہ کچھ دنوں کے دوران بحرين کے مختلف علاقوں ميں عوام نے مظاہرے کرکے سياسي کارکن عبد الہادي خواجہ کي رہائي کا مطالبہ کياـ عبد الہادي خواجہ نے غير قانوني طور پر انہيں دي جانے والي عمر قيد کي سزا کے خلاف دو مہينے سے زيادہ عرصے سے  بھوک ہڑتال کر رکھي ہے اور ان کي جسماني حالت تشويشناک بتائي جاتي ہےـ اب تک انساني حقوق کي متعدد عالمي تنظيميں عبد الہادي الخواجہ کي رہائي کے لئے آل خليفہ حکومت پر دباؤ ڈال چکي ہيں- چونکہ عبد الہادي خواجہ کے پاس ڈنمارک کي بھي شہريت ہے اس لئے ڈنمارک کي حکومت نے بھي مطالبہ کيا ہے کہ انہيں رہا کرکے ڈنمارک کےحوالے کر ديا جائے،  تاہم آل خليفہ حکومت نے ان مطالبات پر کوئي توجہ نہيں دي ہے بلکہ وہ سياسي کارکنوں کي سرکوبي ميں اور بھي شدت لا رہي ہےـ

بحرين کے ممتاز مذہبي رہنما آيت اللہ شيخ عيسي قاسم نے دو ٹوک موقف اختيار کرتے ہوئے آل خليفہ حکومت کو  اپوزيشن رہنما حسن المشيمع اور عبد الہادي خواجہ کي حفاظت کا ذمہ دار قرار ديا اور سوال اٹھايا کہ جو کچھ بحرين کے عوام پر بيت رہي ہے کيا وہ معاندانہ اقدام اور کھلا ہوا ظلم نہيں ہے؟ کيا يہ جائز ہے کہ قيديوں کو ايذائيں دي جائيں ؟ اور ان زر خريدوں کي حمايت کي جائے جو شب و روز بحريني عوام کو بربريت کا نشانہ بنا رہے ہيں؟ شيخ عيسي قاسم نے کہا کہ ملک ميں بحران جتنا طول پکڑتا جائے گا بحرين کو اتنا ہي زيادہ نقصان پہنچے گا اور اس کي ساري ذمہ داري آل خليفہ حکومت کي ہوگي ـ 

   اس وقت مظاہرين کے خلاف آل خليفہ نے نئي روش يہ اختيار کي ہے کہ انہيں چھرے والے کارتوسوں کا نشانہ بنايا جا رہا ہےـ بحرين کي انساني حقوق کي تنظيم کے سربراہ يوسف ربيع نے العالم ٹي وي چينل سے گفتگو ميں کہا کہ سلم آباد ميں سيکورٹي اہلکاروں نے سياسي کارکن احمد اسماعيل کي تشييع جنازہ ميں شريک لوگوں پر چھرے والے کارتوس اور زہريلي  آنسو گيس کي شيلنگ کي جس کے نتيجے ميں پندرہ سالہ بحريني بچہ  محمد احمد عبد العزيز زخمي ہو گياـ 

  بحرين کا انقلاب شروع ہونے سے ليکر اب تک سيکڑوں افراد شہيد اور زخمي ہو چکے ہيں ـ مغربي ميڈيا نے بھي بحرين کے سلسلے ميں بڑي بے رحمي کي پاليسي اپنائي ہے اور عوام پر ہونے والے مظالم کي خبروں کو نظر انداز کر رہا ہے جبکہ بسا اوقات مغربي ذرائع ابلاغ خبروں کو توڑ مروڑ کر پيش کرتے ہيں  تاکہ رائے عامہ کو آل خليفہ کے جرائم کا علم نہ ہو سکے۔

.......

/169