12 اپریل 2012 - 19:30

شہید ناشاد حسین جن کا تعلق روندو تیریکو سے ہے۔ جسے سانحہ چلاس میں بے دردی کے ساتھ شہید کیا گیا۔ شہید کی عمر 24 سال تھی۔ ان کی چھ بہنیں اور ایک بھائی ہے۔ ان کے والد پاک آرمی کے ریٹائرڈ سپاہی ہیں۔ شہید کے والد جسمانی طور پر بیماریوں کے سبب معذور ہوچکے ہیں، شہید اپنے گھرانے کے واحد کفیل تھے۔ چھ بہنوں ایک بھائی، والدین اور بیوہ کا واحد آسرا چلاس کے ہزاروں درندوں کے ہاتھوں شہید ہوچکا ہے۔

ابنا:  شہید ناشاد حسین کے والد سے جو صبر کا پیکر ثابت ہوئے اور اپنے جوان بیٹے کی شہادت پر آنسو بہانے کو ناشکری سمجھا، ان کے تاثرات ریکارڈ کئے جو قارئین کے لیے پیش ہے۔میں پاک آرمی کا ریٹائرڈ سپاہی ہوں۔ اس وقت جسمانی طور پر معذور ہوں۔ جیسے اس سانحہ کی اطلاع ملی مجھے یقین ہوا کہ میرے بیٹے نے شہید ہوجانا ہے کیونکہ وہ کسی قسم کی مصلحت کا شکار ہونے والا نہیں تھا اور جو زندہ بچ کے آئے انہوں نے میرے بیٹے کو خالی ہاتھ لڑتے دشمنوں کو گراتے دیکھا ہے یہ خبر مجھ تک آئی تو میں نے سجدہ شکر ادا کیا۔ ان کی شہادت پر ہمیں کوئی افسوس نہیں ، میرا ایک اور بیٹا ہے وہ بھی اہلبیت (ع) کی محبت کے جرم میں شہید ہوجائے تو میں خدا کا شکر ادا کروں گا۔ایک چیز کا ہمیں افسوس رہا کہ انتظامیہ نے حالات سے فائدہ اٹھا کر شہید کے جنازہ کو رات کے اندھیرے میں دفن کروایا۔ ہم نے جنازہ لینے سے انکار کیا تھا، جب علماء نے گزارش کی تو مجبوراً خاموشی اختیار کرنی پڑی۔ جیسا کہ میں نے کہا کہ جیسے ہی مجھے روڈ کے بلاک ہونے کی اطلاع ملی مجھے یقین ہوگیا کہ میر ا بیٹا ضرور شہید ہوجائے گا۔ سانحہ کے دوران بھی وہ آخری دم تک یا علی (ع) کے نعرے بلند کرتا رہا۔ آخری دم تک اسلام دشمنوں، قرآن دشمنوں اور پاکستان دشمنوں سے لڑتا رہا آخر ایک خالی ہاتھ مسافر کب تک لڑتا۔ بہرحال میرے بیٹے کو چار گولیاں لگیں لیکن پتھر اور لکڑیوں سے جس بے دردی کے ساتھ شہید کیا گیا یہ انسانیت سوز حرکت ہے۔ اس کی اس مظلومانہ اور جرات مندانہ شہادت پر مجھے فخر ہے۔مجھے یقین ہے کہ اس سانحہ میں چلاس کے جو ہزاروں قاتلین اور دہشت گرد شامل تھے وہ نام نہاد مفتیوں، بیرونی دنیا کے اشاروں پر ناچنے والوں کی کارستانی ہے۔ یہ وہی لوگ ہیں جو نے ملک بھر میں شیعہ نسل کشی کے لئے متحرک ہیں، یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے تکفیر کے اڈوں کو کھول رکھا ہے۔ ڈالر اور ریال کی چھنک ان کا دین و ایمان ہے۔ ورنہ محمد(ص) کا اسلام تو کافر مسافروں کو بھی بے جرم و خطا مارنے کی اجازت نہیں دیتی۔ یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے نواسہ رسول امام حسین (ع) کی گردن پر چھری چلائی۔ انہیں کلمہ گو مسلمانوں کے گلے کاٹنے کا ٹھیکہ ملا ہوا ہے۔ ان کا کام حسین (ع) کے شیعوں کے گردن پر آری چلانا، لیکن ہم بھی حسین کے نام کی لاج کی رکھتے ہوئے شہادت سے کبھی نہیں بھاگیں گے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کا کوئی فرقہ جو خدا رسول اور قرآن پر ایمان رکھتا ہو، یہ کام نہیں کرسکتا۔ اہلسنت دنیا کو چاہیے کہ ان کے درمیان جو فتووں کے خالق، تکفیر کے خدام، یہودیوں کے ایجنٹ گھسے ہوئے ہیں ان کو الگ کریں تاکہ اسلام بدنام نہ ہو۔ ان درندوں نے اسلام، قرآن اور پاکستان کے چہرے کو مسخ کرنے کا ٹھیکہ لے رکھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/110