باسمہ تعالى
پورا پاکستان سراپا احتجاج ہے اور حکمران بےحس نظر آ رہے ہیں.حکومت نے اگر ہماری ملت کے مطالبات قبول نہ کئے تو ہماری غیور ملت دنیا کے کونے کونے میں دھرنے دے گی۔ایم دبلیو ایم , آئی ایس او اور ملت کی دیگر بیدار جماعتوں، انجمنوں و ماتمی سنگتوں کے بیدار جوان اور ہماری ملت کی باوقار دختران نے گذشتہ چند دنوں سے باکستان کی سڑکوں اور میدانوں میں جس استقامت کا ثبوت دیا، بوری قوم کا سر فخر و اعتزاز سے بلند ہے۔قومی اسمبلی کے معزز ممبران اور دیگر جن سیاستدانوں اور أہم شخصیات نے بارلیمنٹ کے سامنے گذشتہ ایک ہفتے سے قائم دھرنے میں شرکت کرکے ہماری حوصلہ افزائی کی اور مطالبات کی حمایت کے ہم انکے ممنون ہیں۔باکستان ایک خطرناک مرحلے سے گذر رہا ہے اور اس ملک کے حکمران, خواہ حساس ادارے ہوں یا سیاستدان، وہ خواب غفلت میں ڈوبے ہوئے ہیں اور انہیں ملک کے مستقبل کی فکر ہی نہیں. گذشتہ 3 دہائیوں سے بیگناہ شیعہ افراد کا قتل عام جاری ہے۔ وطن عزیز نے سیکڑوں ڈاکٹر, انجینئر، وکیل، دانشور اور ہرطبقے کے افراد کی قربانی دی ہے۔ اب بہت ظلم ہو چکا ہے کیا حکمران دیکھ نہیں رہے کہ اس بیداری جہان اسلامی نے امریکا نواز حکمرانوں کو کیسے ذلیل کیا؟ اور زین عابدین بن علی, حسنی مبارک اورقذافی کا جو حشر ہوا، اگر حالات کو کنٹرول نہ کیا تو یہی ان کا انجام ہوگا۔ ایک مخصوص بین الاقوامی دہشت گرد ٹولے نے ملک کو تباہی کے کنارے بہنجا دیا ہے اور اگر حکومت نے بروقت "چلاس اور باقی دہشتگردوں کے زیر اثر علاقوں" پر فوجی کاروائی نہ کی، تو اب بھر اس سفینے کے ڈوبنے کا خطرہ ہے اور پھر فقط شیعہ نہیں سب اس خون کی سمندر می نہلائیں گے۔ ہم وطن عزیز کے کونے کونے اور ہرجگہ حکومت کی رٹ قائم کرنے کا مسلسل مطالبہ کر رہے ہیں۔ اور چاہتے ہیں کہ تمام شہری خواہ سنی ہوں یا شیعة یا کوئی اور اس ملک میں امن کی ساتھ زندگی بسر کریں۔
سید شفقت حسین شیرازیسیکرٹری أمور خارجہ ( mwm)12/4/2012۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/110