11 اپریل 2012 - 19:30

شام کے امور میں اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل نیز عرب لیگ کے نمائندے کوفی عنان نے کہا ہے کہ شام کے عوام کو ہی اپنے ملک کےمستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق حاصل ہے ۔

ابنا: انھوں نے آج اپنے دورۂ تہران میں اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ علی اکبر صالحی سے گفتگو میں کہا کہ شام کے عوام کو ہی اپنے ملک کےمستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق حاصل ہے اور دوسروں کو چاہئے کہ وہ شام کی حکومت اور حکومت مخالفین کو مذاکرات کی میز پر لانے اور شام میں امن و استحکام کی برقراری اور اس ملک کے مسائل پرامن طریقے سے حل کئے جانے کی راہ ہموار کریں ۔

اس ملاقات میں اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ علی اکبر صالحی نے بھی شام میں اغیار کی مداخلت کی مخالفت اور اس ملک کے صدر بشار اسد کی جانب سے اصلاحات کے جاری عمل کے دائرے میں شامی عوام کے حقوق کے تحفظ پر مبنی اس ملک میں کسی بھی طرح کے امن منصوبے پر ایران کی حمایت کا اعلان کیا ۔

اس ملاقات کے بعد فریقین نے پریس کانفرنس سے بھی خطاب کیا جس میں کوفی عنان نے شام کے مسئلے کے حل کے بارے میں اپنے چھے نکاتی منصوبے کے حوالے سے کہا کہ اس منصوبے کے تناظر میں شام کی حکومت اور حکومت مخالفین کی جانب سے تمام مسائل بغیر کسی دباؤ اور اسی طرح طاقت کے استعمال کے بغیر قبول کئے گئے ہیں اور منصوبے میں جبر اور فوجی طاقت کا استعمال نہ کئے جانے پر تاکید کی گئی ہے اور در حقیقت شام کا مسئلہ پرامن طریقے سے حل کئے جانے کی ضرورت ہے ۔

اقوام متحدہ کے سابق سکریٹری جنرل کوفی عنان نے حکومت شام کی جانب سے مخالفین سے تحریری ضمانت لئے جانے کی ضرورت کے مطالبے کے بارے میں بھی کہا کہ شام کی حکومت نے اپنے مواقف کا اعلان کردیا ہے اور وہ تشدد کے خاتمے کیلئے مخالفین سے تحریری ضمانت کی خواہاں ہے ۔ انھوں نے شام کے حکومت مخالفین کو مخاطب کرکے کہا کہ وہ اپنے حملے بند کریں اور فائر بندی کا احترام کریں ۔ شام کے امور میں اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل نیز عرب لیگ کے نمائندے کوفی عنان نے امید ظاہر کی کہ کل صبح چھے بجے سے شام میں صورت حال کی بہتری کا مشاہدہ کیا جائے گا اور طاقت کے استعمال کا مسئلہ جلد سے جلد ختم ہوجائے گا ۔ کوفی عنان نے سعودی عرب اور قطر کی جانب سے شام کے بعض حکومت مخالفین کی حمایت اور انھیں ہتھیار فراہم کئے جانے کے بارے میں بھی کہا کہ شام کے مسئلے کو کسی بھی طرح سے فوجی بنانا ایک المیہ ہوگا ۔

اقوام متحدہ کے سابق سکریٹری جنرل کوفی عنان نے اس کانفرنس کے آغاز میں مسئلۂ شام کے حل کیلئے اپنے چھے نکاتی منصوبے کی حمایت میں اسلامی جمہوریہ ایران کے مواقف کی قدر دانی کرتے ہوئے کہا کہ شام میں تشدد کا خاتمہ کرنے کیلئے ایران کی یہ حمایت قابل ذکر اہمیت کی حامل ہے جس سے شامی عوام کو جلد سے جلد بشر دوستانہ امداد پہنچانے کیلئے راہ حل کی تلاش میں بھی مدد ملے گی ۔ کوفی عنان نے مارچ کے مہینے میں دمشق کا دورہ اور شامی حکام نیز شام کے حکومت مخالفین سے ملاقات کے بعد ایک چھے نکاتی منصوبہ پیش کیا ہے جس میں فائر بندی اور دونوں فریقوں کی جانب سے پسپائی ۔

پرامن طریقہ اختیار کئے جانے اور اسی طرح شامی حکومت کی جانب سے مقابل فریق سے مذاکرات کئے جانے کی ضرورت پر تاکید کی گئي ہے جبکہ اس منصوبے میں شام کے صدر بشار اسد کی اقتدار سے علیحدگی اور یا حکومت کی تبدیلی کی طرف کوئی اشارہ نہیں کیا گیا ہے اور اسی بنیاد پر ایران نے اس منصوبے کی حمایت کی ہے ۔ ایران نے شام میں اصلاحات کیلئے ہمیشہ اس ملک کی حکومت کو ترغیب دلائی ہے تاہم اس ملک میں بیرونی مداخلت یا اس ملک کے خلاف فوجی طاقت کا استعمال کئے جانے کی ہمیشہ مخالفت کی ہے اور شام میں لیبیاء کے تجربے کی تکرار پر خبردار کیا ہے ۔

جبکہ مغربی اور علاقے کے بعض ممالک شام میں وابستہ دہشتگرد گروہوں کے تشدد پسندانہ اور جارحانہ اقدامات کی حمایت کررہے ہیں ۔ چنانچے شام کے بارے میں ایران اور کوفی عنان کے مواقف میں پائی جانے والی نزدیکی کے پیش نظر ہی اقوام متحدہ کے سابق سکریٹری جنرل نے تہران کا دورہ اور ایرانی حکام کے ساتھہ تبادلۂ خیال کیا ہے جو اسلامی جمہوریہ ایران کے علاقائی کردار اور اثر و رسوخ کے مد نظر بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے ۔ .......

/169