10 اپریل 2012 - 19:30

وزير خارجہ علي اکبر صالحي نے کہا ہے کہ ايران جوہري مذاکرات کے حوالے سے کوئي پيشگي شرط قبول نہيں کرے گا-

ابنا: وزير خارجہ علي اکبر صالحي کا کہنا تھا کہ  ايران اور پانچ جمع ايک گروپ کے درميان مذاکرات سے قبل کسي شرط کا تعين مذاکرات کا قبل از وقت نتيجہ حاصل کرنے کے مترادف ہے اور اس سے مذاکرات بے معني ہوکے رہ جائيں-

انہوں نے  پيشگي شرط سے متعلق خبروں کو ذرائع ابلاغ کا موضوع قرار ديتے ہوئے کہا کہ اگر کسي بھي فريق نے مذاکرات کے حوالے سے کوئي شرط رکھي تو اسے ہرگز قبول نہيں کيا جائے گا-

وزير خارجہ نے کہا کہ ايران پوري تيار اور مثبت سوچ کے ساتھ استنبول مذاکرات ميں شرکت  کرے گا اور اسے ذرائع ابلاغ کے پروپيکنڈے کي کوئي پرواہ نہيں ہے-

انہوں نے اميد ظاہر کي کہ استنبول مذاکرات  کے مثبت اور تعمير تنائج برامد ہونگے-

واضح رہے کہ اسلامي جمہوريہ ايران اور پانچ جمع ايک گروپ کے درميان نئے دور کے مذاکرات کا پہلا مرحلہ ترکي کے شہر استنبول ميں ہوگا جبکہ مذاکرات دوسرا مرحلہ بغداد ميں منعقد ہوگا-

قومي سلامتي کي اعلي کونسل کے سيکريٹريٹ جاري ہونے والے بيان ميں کہا گيا ہے کہ فريقين نے مذاکرات کے پہلے دور کے استنبول ميں  اور دوسرے دور کے بغداد ميں انعقاد پر اتفاق کرليا ہے-.......

/169