اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کے نئے وزیر دفاع ـ جو سابق ولیعہد و وزیر دفاع سلطان بن عبدالعزیز کے انتقال کے بعد اس عہدے پر متعین کئے گئے ہیں ـ نے امارات میں مشترکہ دفاعی کونسل کے اجلاس میں خلیج فارس تعاون کونسل کی رکن ریاستوں پر دباؤ ڈآل کر کہا ہے کہ وہ ایران کے پرامن جوہری پروگرام کو اپنے لئے ایک خطرے کے عنوان سے متعارف کرائیں۔ ادھر ویکی لیکس کی ویب سائٹ نے ایک فیکس کا متن بھی فاش کردیا ہے جس کے مطابق سعودی بادشاہ عبداللہ بن عبدالعزیز نے کئی بار امریکہ سے عاجزانہ التماس کیا ہے کہ فوجی حملہ کرکے ایران کے ایٹمی پروگرام کا خاتمہ کردے!۔ریاض میں امریکی سفارتخانے اور واشنگٹن کے درمیان خفیہ رابطوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ آل سعود عراق میں ایران کے بڑھتے ہوئے اثر و نفوذ سے سخت تشویش میں مبتلا ہیں۔برطانوی روزنامے "گارڈین" نے بھی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ بحرین کے حکمران حمد بن عیسی سمیت خطے میں امریکہ کے حلیف حکمرانوں نے امریکہ سے درخواست کی ہے کہ وہ ایران کے جوہری پروگرام پر حملہ کرے!۔سعودی روزنامے "الریاض" کے نائب ایڈيٹر "یوسف الکویلیت" نے بھی اس روزنامے کے اداريئے بعنوان "ایران۔۔۔ سراب کے پیچھے دوڑ" میں لکھا ہے: ایران کے ایٹمی ہتھیار بن جائیں گے اور یہ ملک ان ملکوں کے حملے کا نشانہ بنے گا جو ان حالات کو اپنے لئے خطرہ سمجھتے ہیں۔سعودی روزنامہ نویس شاید اپنے ملک کی فوجی قوت کا صحیح اندازہ لگائے بغیر یہ دھمکی آمیز جملہ زیر قلم لائے ہوں، لیکن ایک بات مسلم ہے کہ ان کی تحریر صہیونی روزنامہ نویسوں سے بہت زیادہ حد تک ملتی جلتی ہے جو امریکہ اور یورپ کو ایران سے خوفزدہ کرکے انہیں اس ملک کے خلاف مشتعل کرنا چاہتے ہیں اور اس صورت حال سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ خادم الحرمین کہلوانے والا خاندان کس حد تک یہود و نصاری کے ساتھ ہمآہنگ ہے!۔دوسری طرف سے، اس سے قبل بھی آل سعود کی حکومت نے کئی مرتبہ دھمکی دی ہے کہ اگر ایران ایٹمی ہتھیار بناتا ہے تو سعودی عرب بھی ایٹم بم خریدے گا! یہ الگ بات ہے کہ کس ملک نے آل سعود کو بم فروخت کرنے کی دہائی دی ہوگی، اسرائیل نے یا امریکہ نے یا پھر کسی یورپی یا ایشیائی ملک نے!؟۔سعودی عرب نے اسرائیل کو ایک ایٹمی دوست کے عنوان سے تسلیم کرلیا ہے لیکن اس کو اسرائیل کے دشمنوں سے خطرہ محسوس ہورہا ہے جیسا کہ روزنامہ ٹائمز نے لکھا ہے: "سعودی حکومت نے تسلیم کرلیا ہے کہ "اسرائیل کے پاس ایٹمی وار ہیڈز منہدم کرنے کے لئے وقت نہیں ہے!" لیکن اس کا کہنا ہے کہ اگر ایران ایٹمی طاقت میں تبدیل ہوجائے تو وہ "جوابی کاروائی" کرے گا"۔آل سعود کی دھمکیاں ایسے وقت میں سامنے آرہی ہیں کہ اس نے اب تک ایک بار بھی عربوں اور مسلمانوں کے قسم خوردہ دشمن یعنی یہودی ریاست کے سینکڑوں ایٹم بموں پر حتی لفظی احتجاج بھی نہیں کیا ہے جبکہ اسرائیل کے ایٹمی ہتھیاروں سے پوری دنیا کو تباہ کیا جاسکتا ہے۔ آل سعود کی دھمکیوں کی حقیقت کا اس بات سے بھی بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اس نے اپنی پوری فوج شمالی یمن میں ساتھ مہینوں تک حوثیوں کے خلاف جنگ میں دھکیل دی لیکن اس لمبے عرصے میں حتی اس کی فوج نہ صرف حوثیوں کے ایک مورچے کو فتح نہ کرسکی بلکہ اس کے کئی فوج اڈے بھی حوثیوں کے قبضے میں چلے گئے حالانکہ اس نے مصر، اردن بعض جنوب ایشیائی افواج کی خدمات بھی حاصل کی تھیں، اور اسرائیل سے بھی مختلف قسم کے ہتھیار مل رہے تھے اور امریکہ بھی حوثیوں پر حملے کررہا تھا جبکہ علی عبداللہ صالح بھی اندر سے حوثیوں کےخلاف برسرپیکار تھا اور جب حوثیوں نے جنگ بندی کا اعلان کیا تو سعودی عرب نے ایک لفظ کہے بغیر اس جنگ بندی کو قبول کرلیا اور تو اور سعودی عرب اپنے ملک کے اندر کے پرامن مظاہروں کو کچلنے کے لئے بھی کرائے کے بیرونی فوجیوں کی خدمات حاصل کررہا ہے!۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/110