6 اپریل 2012 - 19:30

ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے درمیان مذاکرات کا وقت جیسے جیسے قریب آتا جارہا ہے ویسے ویسے ان مذاکرات کی جگہ سے متعلق قیاس آرائیوں میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔

ابنا: اسلامی جمہوریہ ایران کی جانب سے عراق کو پیش کردہ ان مذاکرات کی میزبانی کی تجویز نے سیاسی مبصرین کی توجہ اپنی جانب مبذول کرلی ہے۔ اس سلسلے میں مختلف قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں خصوصا یہ قیاس آرائی بھی کی جارہی ہے کہ یہ مذاکرات ترکی میں ہوں گے۔ دریں اثناء ترکی کے وزیر خارجہ محمد داود اوغلو نے حال ہی میں اسلامی جمہوریہ ایران کی اعلی قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری سعید جلیلی سے ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوۓ ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے مذاکرات کرانے پر انقرہ کی آمادگی پر تاکید کرتے ہوۓ بغداد میں ان مذاکرات کے انعقاد پر مبنی اسلامی جمہوریہ ایران کی تجویز کو دانشمندانہ قرار دیا ہے۔

اس ٹیلی فونی گفتگو کے بعد تہران میں تعینات ترکی کے سفیر امیت یار دیم نے کل اسلامی جمہوریہ ایران کی اعلی قومی سلامتی کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری علی باقری سے ملاقات کی اور ترک حکام کے بیانات سے متعلق بعض یورپی ذرائع ابلاغ کے نشر کردہ مطالب کے بارے میں وضاحت پیش کی ۔ امیت یاردیم نے تاکید کی کہ ترکی اسلامی جمہوریہ ایران کے ایٹمی موقف کی حمایت کرتا ہے اور اسی وجہ سے اس نے امریکہ کے دباؤ کے باوجود اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ایران مخالف قرارداد کی ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا تھا۔

ترکی کے شہر استنبول میں گزشتہ برس جنوری کے مہینے میں ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے درمیان مذاکرات ہوۓ تھے جو یورپ کی خلل اندازی کی وجہ سے کسی نتیجے تک نہیں پہنچ سکے تھے۔موجودہ صورتحال میں استنبول کے بجاۓ کسی دوسری جگہ مذاکرات کے انعقاد کی وجہ بعض دوسرے امور بھی ہو سکتے ہیں۔

جن میں ایک خطے کے مسائل اور ایران کے ایٹمی پروگرام سے متعلق ترکی کے موقف کے بارے میں کی جانے والی قیاس آرائی بھی شامل ہے۔ بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ ترکی یورپ کے ساتھ ہم آہنگی کی وجہ سے اپنی خارجہ پالیسی میں تضاد کا شکار ہے۔ لیکن اس کے باوجود وہ اپنی علاقائي پالیسی میں ایران کے ساتھ اشتراک عمل کی ضرورت محسوس کرتا ہے اور علاقائی مسائل کے سلسلے میں ثالث کا کردار ادا کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ جس کے لۓ ضروری ہے کہ ترکی شفاف خارجہ پالیسی اختیار کرے اور اس کے ساتھ ساتھ خطے کے ممالک کے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوۓ اقدامات انجام دے جبکہ ترکی کی سفارتی کوششیں اس کے بالکل برعکس ہیں۔ اس کے علاوہ ترکی کے وزیر اعظم رجب طیب اردوغان نے اپنے حالیہ دورۂ ایران کے دوران دونوں ممالک کے اچھے تعلقات پر تاکید کی تھی لیکن ابھی ان کو ترکی واپس لوٹے ہوۓ دو دن بھی نہیں گزرے تھے کہ اعلان کر دیا گيا کہ ترکی نے ایران سے تیل کی درآمد میں بیس فیصد تک کمی کردی ہے۔

ظاہر سی بات ہے کہ اہم مسائل کے حوالے سے اسلامی جمہوریہ ایران کے اپنے خاص معیارات ہیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ ثالث ملک کو اپنے مواقف کے سلسلے میں خود مختار ہونا چاہۓ۔ بین الاقوامی اعتبار سے بھی اسلامی جمہوریہ ایران این پی ٹی معاہدے کے دائرہ کار میں ایٹمی پروگرام کے بارے میں منطقی مذاکرات کا خواہاں ہے اور ایسے مذاکرات اسی صورت میں ہوسکتے ہیں جب ان مذاکرات کی جگہ سمیت ان کے تمام عناصر کا دانشمندی سے انتخاب کیا جاۓ۔

امریکہ کی ایران مخالف پابندیوں کی پالیسی کے سلسلے میں ترکی کا بڑھتا ہوا تعاون بھی ایک غور طلب مسئلہ ہے۔ اس کے علاوہ ایران کی جانب سے میزبان ملک کے انتخاب کی وجہ سے علاقائي ملکوں کے اتحاد اور اشتراک عمل کے دائرے میں وسعت پیدا ہوگی کیونکہ بعض دوسرے ایسے ممالک بھی یقینا موجود ہیں جو ایسے مسائل کی ذمےداری قبول کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور بین الاقوامی مذاکرات کے انعقاد کے سلسلے میں ان کو مدنظر رکھا جاسکتا ہے۔ بنابریں مذاکرات کی جگہ کی تبدیلی کے موضوع کے زیر بحث آنے اور ایران کی تجویز پر سامنے آنے والے رد عمل اور قیاس آرائیوں کا مختلف پہلووں سے جائزہ لیا جاسکتا ہے اور اس سے مذاکرات کے زیادہ مفید ہونے کے سلسلے میں مدد مل سکتی ہے۔ .......

/169