5 اپریل 2012 - 19:30

سعودی بادشاہ کے بھائی ـ جو ملک میں بنیادی اصلاحات کا حامی کہلوانے پر اصرار کرتے نظر آتے ہیں ـ کو خاندانی تقسیمات میں عوام کی دو کروڑ 20 لاکھ مربع میٹر زمین کا ایک ہی پلاٹ مختص کیا گیا ہے اور اس نام نہاد اصلاح پسند شہزادے نے دعوی کیا ہے کہ یہ ان کا اپنا حق تھا۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق, رہائش اور مکان کے حوالے سے بحران کا شکار ہونے والے ملک میں، سعودی حکومت نے سعودی بادشاہ طلال بن عبدالعزیز کے قرضوں کے عوض انہيں سعودی عرب کی 2 کروڑ 20 لاکھ مربع میٹر زمین مختص کردی ہے۔

کہا جاتا ہے کہ طلال بن عبدالعزیز کا ایک مکان حکمران خاندان نے فروخت کیا تھا اور حکمرانوں کے لئے اس مکان کی قیمت کی ادائیگی ممکن نہ تھی چنانچہ حکمران شہزادوں نے ـ عام طور پر مصر میں قیام پذیر نام نہاد اصلاح پسند شہزادے کو ـ 2 کروڑ 20 لاکھ مربع میٹر زمین کا تحفہ دیا اور اس کے کاغذات طلال بن عبدالعزیز کے نام کردیئے۔

واضح رہے کہ آل سعود کے درمیان جزیرہ نمائے عرب کی زمینوں کی بندربانٹ کی وجہ سے عوام کو رہائش کے حوالے سے شدید بحران کا سامنا ہے اور رپورٹوں میں کہا گیا ہے کہ طلال بن عبدالعزیز کو عوام کے خزانے سے دوکروڑ بیس لاکھ میٹر مربع زمیں پر 40 ہزار سے زیادہ بے گھر لوگوں کو گھر بنا کر دیئے جاسکتے ہیں اور شہزادہ طلال ان لوگوں میں سے تھے جو اس سے قبل عوام کو مکان کی سہولت نہ دیئے جانے پر بظاہر حکومت سے ناراض تھے!۔

طلال بن عبدالعزیز نے اس عجیب سودے کی خبریں منکشف ہونے کے بعد ایک بیان جاری کیا ہے اور کہا ہے کہ مذکورہ زمین کا ذاتی حق ہے۔

یاد رہے کہ طلال بن عبدالعزیز سعودی عوام کی دولت سے ارب پتی بننے والے ولید بن طلال کے والد ہیں جنہوں نے مصر میں کئی لاکھ ہیکٹر عوامی زمینوں پر قبضہ کررکھا ہے اور انھوں نے بظاہر اس زمین کی قیمت سابق آمر حسنی مبارک کو ادا کی ہے۔

آل سعود کی طرف سے عوام کی زمینیں غصب کرنے کا مسئلہ جزیرہ نمائے عرب کے عوام کیا بنیادی مسئلہ ہے جس کی وجہ سے 70 فیصد عوام کے پاس ذاتی گھر کی سہولت نہیں ہے۔

.......

/169

تفصیل کے لئے رجوع کیجئے:

بلادالحرمین کی تازہ ترین صورت حال/ ایک سیاسی راہنما کی رہائی کے لئے مظاہرے