29 مارچ 2012 - 19:30

واضح رہے کہ رجب طبب اردوگان نے شام کے مسائل میں غلط موقف اپنایا ہے اور امریکیوں کی ہاں میں ہاں ملارہے ہیں، دریں اثناء ترک وزيراعظم رجب طیب اردوگان نے دورہ ایران کے موقع پر رہبر انقلاب اسلام امام خامنہ ای سے ملاقات کی اور امام خامنہ ای نے فرمایا: ایران شام کے خلاف کسی بھی امریکی تجویز اور منصوبے کی شدت سے مخالفت کرتا ہے؛ علاقے کے انتہائی حساس حالات میں اہم ترین مسئلہ یہ ہے کہ علاقے کے مستقل ممالک صحیح فیصلے کریں؛ شام اسرائیل کے خلاف مزاحمت محاذ کا فرنٹ لائن ملک ہے اور ایران شام کا دفاع کرے گا۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق ترکی کے وزیر اعظم رجب طیب اردوگان نے جمعرات کے روز رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی امام خامنہ ای سے ملاقات اور بات چیت کی۔امام خامنہ ای نے علاقے کی نہایت حساس صورت حال کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اللہ کے فضل سے علاقے میں رونما ہونے والی تبدیلیاں اب تک اسلام اور مسلمانوں کے مفاد میں تھیں اور اس کے بعد بھی یہی سلسلہ جاری رہے گا؛ تا ہم اہم ترین مسئلہ یہ ہے کہ مستقل ممالک درسب فیصلے کریں اور صحیح منصوبہ بندی کریں۔  آپ نے فرمایا: دنیا کی مسلط قوتیں بالخصوص امریکہ علاقائی ممالک کو "کٹھ پتلیوں" اور "اوزاروں" کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور امریکی کسی بھی ملک کو مستقل ملک کی حیثیت سے قبول نہيں کرتے اور وہ تمام ممالک کے ساتھ یہی طرز سلوک روا رکھتے ہیں چنانچہ علاقے کے ممالک کو اپنے فیصلے کرتے وقت اسلامی ممالک کے مفادات کو مدنظر رکھنا چاہئے۔ رہبر انقلاب اسلامی نے ترکی کے اقتدار میں اسلامی تفکر کے حامل سیاستدانوں کی موجودگی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: امریکہ اور دوسرے مغربی ملکوں کو ترکی میں یہ نئی حالت ایک آنکھ بھی نہیں بھاتی اور جس قدر کے مغربی حکمران ترکی کی اس صورت حال سے ناراض ہیں اس سے کہیں زیادہ، اسلامی جمہوریہ ایران کو بہت خوشی ہے کہ ترکی کا اقتدار ہمارے مسلمان بھائیوں کے ہاتھ میں ہے۔رہبر انقلاب اسلامی نے شام کی صورت حال کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: اسلامی جمہوریہ ایران شام کے سلسلے میں ہر اس منصوبے کی مخالفت کرتا ہے جس کا بانی و باعث امریکہ ہوں اور چونکہ شام صہیونی ریاست کے مقابلے میں اسلامی مزاحمت محاذ کی حمایت کرتا ہے اسلامی جمہوریہ ایران اس ملک کا دفاع کرے گا اور ہم شام کے معاملات میں کسی بھی بیرونی مداخلت کے سخت خلاف ہیں۔آپ نے فرمایا: ہم شام میں اصلاحات کے عمل کی بھر پور حمایت کرتے ہیں اور شام میں شروع ہونے والے اصلاحات کے عمل کو جاری رہنا چاہئے۔ترک وزیر اعظم نے رہبر انقلاب اسلامی کے ساتھ ملاقات کی فرصت فراہم ہونے پر خوشی اور مسرت کا اظہار کیا اور ترکی اور ایران کے درمیان تاریخی رشتوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ہماری رائے یہ ہے کہ اتنے گہرے اور دیرینہ پس منظر پر استوار ہونے والے موجودہ رشتوں کو مزید مضبوط ہونا چاہئے اور دو ملکوں کے درمیان بنیادی ڈھانچے سے متعلق منصوبوں ميں تعاون کو مزید وسیع اور گہرا ہونا چاہئے۔انھوں نے کہا کہ میں جو وفد اپنے ساتھ لایا ہوں وہ اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ ترکی ایران کے ساتھ توانائی سمیت تمام شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے کے خواہاں ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/110