28 مارچ 2012 - 19:30

کوئٹہ سپنی روڈ پرپرپشین بس سٹاف کے قریب لشکر یزید کے مسلح دھشتگردوں نے ایک سوزوکی وین پر فائرنگ کردی جس کے نتیے میں اب تک ایک خاتون سمیت6 شہادتوں اور 8 افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔

ابنا: اطلاعات کہ مطابق آج صبح سپنی روڈ پر درندہ صفت یزیدی موٹر سائیکل سواروں نے ایک گاڑی پر فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں ایک خاتون سمیت 6 افراد شہید اور 8 زخمی ہو گئے۔ گاڑی ہزارہ ٹاؤن سے کوئٹہ شہر آرہی تھی۔  شھیدوں اور زخمی ہونے والے شیعیان آل محمد (ص) کو بی-ایم-سی، سی-ای-ایچ اور سول اسپتال مئتقل کیا گیا ہیں۔واقعے کے بعد نامعلوم مسلح افراد (معمول کے مطابق) موٹرسائیکل پر فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ پولیس نے (بھی معمول کے مطابق) نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کرکے ان کی تلاش شروع کردی ہے لیکن آخری اطلاع تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی اور نہ تاحال کسی نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔واقعے کے اطلاع ملتے ہی شہر کے مختلف علاقوں سے عوام کی ایک بڑی تعداد بی ایم سی ہسپتال پہنچ گئی جنہوں نے نہ صرف احتجاج کرتے ہوئے ٹائرجلادیئے اور بروری روڈ کو بند کردیا۔ کوئٹہ میں فائرنگ کے واقعے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور تنظیموں نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ مجلس وحدت مسلمین, شیعہ علماء کونسل اور ہزارہ ڈیموکریٹیک پارٹی نے واقعے کے خلاف  آج باچاخان چوک پر دھرنا دیا اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا. 

بشکریہ از شیعت نیوز

.......

تازہ خبر کے مطابق شہداء کی تعداد 5 ہے اور شہداء و زخمیوں کے نام بھی آگئے ہیں

سانحہ اسپنی روڈ کے شہیدوں اور زخمیوں کے نام

پاراچنار میں کچھ عرصہ قبل جب سیکورٹی فورسز کی حفاظت میں آنے والے دہشت گردوں نے بم دھماکہ کرکے 36 افراد کو شہید کیا تو عوامی احتجاج پر پاک فوج نے فائرنگ کردی جس کے نیجے میں 8 مزید افراد شہید ہوگئے یعنی نشانہ بھی شیعہ اور سزا بھی شیعہ کو ہی ملے اور یہی منظرنامہ کوئٹہ میں بھی دہرایا گیا دیکھئے:

پرامن مظاہرین پر متعصب پولیس اھلکاروں کی فائرنگ دو شیعہ شھید۔متعدد زخمی

گلگت جانے والے مسافروں کو بالفطرہ مجرمین نے گاڑی سے اتار کر شہید کیا تو گلگت والوں نے ایک نئی حکمت عملی سے اپنے بہت سے مطالبات منوالئے چنانچہ ایک راستہ بن گیا وحدت اور پرامن احتجاج کا جو کوئٹہ میں بھی دہرایا جارہا ہے؛ امید ہے کہ استقامت رہے اور احتجاج کی یہ روش کوئٹہ میں بھی جواب دے؛ دیکھئے:

کوئٹہ, اسپنی روڈ کے واقعے میں ملوث عناصرکی گرفتاری کیلئے 48 گھنٹے کا الٹی میٹم

شیعہ نوجوانوں کا قتل آج کل سرکاری سرپرستی میں کام کرنے والے دہشتگردوں کے لئے ایک تفریح بن گیا ہے۔ سرکاری سرپرستی کی بات امید ہے کہ کسی کو ناراض نہ کرے لیکن جب ایک کالعدم جماعت بدستور دہشت گردی کرتی رہے اور اس کے دہشت گرد نہ گرفتار ہوں اور نہ ہی انہیں سزا ملے اور ہر روز اس جماعت کی نئی شاخیں اگتی رہیں تو کہا جاتا ہے کہ اس کو سرکار سرپرستی حاصل ہے بہرحال کراچی والوں نے بھی الٹی میٹم دے دیا؛ دیکھئے:

اگر نوجوانوں کا قتل عام نا روکا تو شہر کراچی میں امن کی ضمانت نہیں دے سکتے

شیعہ نسل کشی کے خلاف کراچی میں علامہ ظفر نقوی کی زیر قیادت احتجاجی ریلی

/169 ـ 110

کراچی: دہشت گردوں کی فائرنگ،شیعہ جوان ساجد حسین شھید