27 مارچ 2012 - 19:30

شام کے امور ميں اقوام متحدہ اور عرب ليگ کے خصوصي نمائندے کوفي عنان نے کہا ہےکہ دمشق نے شام ميں بدامني کے خاتمے کے ليے ان کے چھے نکاتي منصوبے کو تسليم کر ليا ہے-

ابنا: شام کے امور ميں اقوام متحدہ اور عرب ليگ کے خصوصي نمائندے کوفي عنان نے بتايا ہے کہ اس منصوبے ميں شام کي حکومت اور اس کے مخالفوں کے درميان سياسي مذاکرات، شام کے شہروں اور ديگر علاقوں سے فوجيوں اور بھاري جنگي ساز و سامان کي واپسي، بحران زدہ علاقوں ميں انسان دوستانہ امداد کي ترسيل پر لگي پابندي کا خاتمہ، سياسي قيديوں کي رہائي، ملک ميں سياسي جماعتوں کو سرگرمياں انجام دينے کي آزادي اور ذرائع ابلاغ کي آمد و رفت کي اجازت جيسے موضوعات شامل ہيں- کوفي عنان نے اس امن منصوبے کو تسليم کرنے پر دمشق کو سراہا اور  اسے شام کے بحران کے خاتمے کي راہ ميں ايک اہم قدم بتاتے ہوئے کہا ہےکہ اس سے عوام کے قانوني مطالبات کي تکيمل کي راہ ہموار ہو جائے گي-     انہوں نے اپنے اس منصوبے کي کاميابي کے ليے حال ہي ميں ماسکو اور بيجنگ ميں روس اور چين کے حکام سے ملاقات کي ہے- ان ملاقاتوں ميں ماسکو اور بيجنگ کے حکام نے کوفي عنان کے منصوبے کي حمايت کرتے ہوئے اميد ظاہر کي ہے کہ شام کا مسئلہ سفارتي راہوں سے حل ہو جائے گا- ياد رہے کہ روس اور چين نے شام کے خلاف ہر قسم کے فوجي اقدام کي مخالفت کي ہے اور شام کے خلاف اقوام متحدہ کي سلامتي کونسل ميں پيش ہونے والي قرارداد کے مسودے کو ويٹو بھي کيا ہے-    چين تمام بين الاقوامي فريقوں سے کوفي عنان کے منصوبے کي حمايت اور شام کے بحران کے پرامن حل کے ليے ان کے ساتھ تعاون کيے جانے کا خواہاں ہے تاہم امريکا اب بھي شام کے سلسلے ميں اپنا معاندانہ رويہ جاري رکھے ہوئے ہے اور بدستور کوفي عنان کي کوششوں کي راہ ميں رکاوٹيں ڈال رہا ہے- امريکي وزير خارجہ ہليري کلنٹن نے ايک غير ذمہ دارانہ بيان ديتے ہوئے شام کے صدر بشار کي جانب سے اقوام متحدہ کے چھے نکاتي منصوبے کو تسليم کيے جانے کے سلسلے ميں کہا ہے کہ عالمي برادري، بشار اسد کے آئندہ رويے اور مستقبل کے حالات کي بنياد پر اس اقدام کے بارے ميں فيصلہ کرے گي-  امريکا کي جانب سے اس قسم کي پاليسي، شام کے خلاف ماحول کو مزيد خراب کرنے کي غرض سے اختيار کي جا رہي ہے- خاص طور پر اس ليے کہ سيرين نيشنل کونسل کے نام سے دمشق حکومت کے مخالفوں نے، جنہيں امريکا کا بھرپور تعاون حاصل ہے، اعلان کيا ہے کہ وہ ايسے کسي بھي منصوبے کے بارے ميں گفتگو نہيں کريں گے جو بشار اسد کے اقتدار ميں باقي رہنے پر منتج ہو-    کوفي عنان کے منصوبے ميں اقتدار سے صدر اسد کي عليحدگي کے ليے کوئي نظام الاوقات معين نہيں کيا گيا ہے جس سے شام مخالف عرب اور مغربي دھڑے سخت چراغ پا ہيں- اس دھڑے نے حاليہ مہينوں ميں شام حکومت کے مخالف گروہوں کو اسلحہ فراہم کرکے اور بدامني پھيلا کر اس بات کي کوشش کي ہے کہ شام ميں سياسي نظام تبديل ہو جائے- بشار اسد کو اقتدار سے ہٹا کر اپنے مدنظر شخصيت کو شام کے اقتدار ميں پہنچانا وہ پلان ہے جو امريکا نے شام کے سلسلے ميں تيار کر رکھا ہے- شام کے سياسي حلقوں کا خيال ہے کہ دمشق حکومت کي جانب سے کوفي عنان کے منصوبے کو تسليم کيے جانے کے بعد اقوام متحدہ کي سلامتي کونسل کے مستقل رکن ممالک کے درميان شام کے سلسلے ميں اختلافات بڑھ جائيں گے کيونکہ چين اور روس نے مذکورہ منصوبے کو عملي جامہ پہنانے ميں عنان کے ساتھ تعاون کا اعلان کرتے ہوئے ابھي سے کہہ ديا ہے کہ وہ ممکنہ طور پر ترکي کے استنبول شہر ميں سيرياز فرينڈز کے نام سے ہونے والے شام مخالف اجلاس ميں شرکت نہيں کريں گے- يہ اجلاس امريکا اور بعض عرب ملکوں کي کوششوں سے منعقد ہونے والا ہے ــــ.......

/169