اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق جزیرہ نمائے عرب کی عیسائی عبادتگاہوں کے انہدام کی ضرورت پر مبنی بلادالحرمین کے سرکاری مفتی عبدالعزیز آل الشیخ کے غیر اسلامی فتوے کے منظر عام پر آنے پر مصر کے مفتی اعظم شیخ علی جمعہ، الازہر یونیورسٹی کے شریعت اسلامی ڈپارٹمنٹ کے پروفیسر ڈاکٹر احمد کریمہ، انسانی حقوق کے شعبے کے فعال راہنما ڈاکٹر نجیب جبرائیل، الازہر کی فتوی کمیٹی کے سابق سربراہ شیخ عبدالحمید الاطرش اور لبنان کے عیسائی شاعر جوزف ہاشم نے رد عمل ظاہر کیا ہے۔ جزیرہ نمائے عرب کے گرجاگھروں کے انہدام کی ضرورت پر مبنی آل سعود کے سرکاری مفتی کا بےعقلانہ اور غیردانشمندانہ فتوے پر ـ جو اسلام کی بدنامی اور ابراہیمی ادیان کے پیروکاروں کے درمیان اسلام کے سلسلے میں بدگمانیوں کا سبب بن گیا ہے ـ رد عمل ظاہر کرتے ہوئے اس فتوے کی مذمت کی ہے۔مصر کے مفتی اعظم شیخ علی جمعہمصر کے مفتی اعظم شیخ علی جمعہ نے افتاء کے حوالے سے افراتفری کی صورت حال کو بے وقعت اور حقائق سے دور قرار دیا ہے۔انھوں نے قاہرہ میں اسلامی امور سپریم کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے عالم اسلام میں بڑھتی ہوئی فتوابازی کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا: حالیہ مہینوں میں اسلامی ملکوں میں کثرت سے متنازعہ فتوے سامنے آئے ہیں۔انھوں نے کہا کہ مصر کے دارالافتاء میں ان فتؤوں کا جائزہ لیا گیا تو یہ نتیجہ سامنے آیا کہ یہ فتوے اسلام دشمن مولویوں کی طرف سے جاری ہوئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ دشمنان اسلام ان فتؤوں کے ذریعے اسلام اور مسلمانوں کو بدنام کرنا چاہتے ہیں اور اس طرح کے فتوے جاری کرنے والے اسلام کی توہین کررہے ہیں۔ انھوں نے امت مسلمہ کے تمام افراد سے کہا کہ وہ اسلام کے حقیقی علماء کی طرف رجوع کریں کیونکہ اس وقت ہم دینی گفتگو کے حوالے سے افراتفری کے مرحلے سے گذر رہے ہیں چنانچہ عوام کو اپنے سوالات پوچھنے کے لئے عالم اسلام کے ماہر علماء سے رجوع کریں۔انھوں نے مصر میں (سعودی طرز پر) "ہيئت امر بالمعروف اور نہی عن المنکر" کے حوالے سے کہا: الازہر نے مصر میں اس طرح کے ایک بورڈ کے لئے شرائط متعین کی ہیں کیونکہ جو لوگ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے فریضے کا اہتمام کرتے ہیں وہ بدخو اور بداخلاق ہوتے ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی سنت کی مخالفت کرتے ہیں۔انھوں نے علمائے اسلام کو افتاء کے سلسلے میں موجودہ افراتفری کی صورت حال کی بیخ کنی کے لئے تعاون کی دعوت دی اور ان سے مطالبہ کیا کہ غیر ماہر اور دین کے احکام سے ناواقف مولویوں کو فتوابازی نہ کرنے دیں اور انہیں بے وقعت فتوے جاری نہ کرنے دیں۔جامعۃ الازہر کے شریعت اسلامی کے استاد ڈاکٹر احمد کریمہاستاد ڈاکٹر احمد کریمہ نے آل سعود کے سرکاری مفتی کو طعنہ امیز لہجے میں تجویز دی ہے کہ وہ گرجاگھروں کے انہدام کے لئے فتوے دینے کی بجائے اسلامی ممالک میں قابضین اور جارحین کی موجودگی کی حرمت کا فتوی کیوں نہیں دیتے؟!انھوں نے کہا: اسلامی ممالک کی آبادی کا ایک خاصا حصہ عیسائیوں پر مشتمل ہے؛ ،عرب ممالک میں خاصی تعداد عیسائیوں کی ہے تو پھر کہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ان کی عبادت کے لئے کوئی جگہ نہ ہو؟!انھوں نے سورہ حج کی آیت 40 کا حوالہ دیا اور کہا کہ کلیساؤں کو بھی ان عبادتگاہوں ميں گردانا گیا ہے جن میں اللہ کا کثرت سے ذکر ہوتا ہے؛ چنانچہ عیسائیوں کی عبادتگاہ بھی محترم ہے:الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِن دِيَارِهِم بِغَيْرِ حَقٍّ إِلَّا أَن يَقُولُوا رَبُّنَا اللَّهُ ۗ وَلَوْلَا دَفْعُ اللَّهِ النَّاسَ بَعْضَهُم بِبَعْضٍ لَّهُدِّمَتْ صَوَامِعُ وَبِيَعٌ وَصَلَوَاتٌ وَمَسَاجِدُ يُذْكَرُ فِيهَا اسْمُ اللَّهِ كَثِيرًا۔ (سورہ حج آیت 40)ترجمہ: وہی لوگ جن کو ان کے وطن سے نکال دیا گیا ہے اور ان کا جرم صرف یہ تھا کہ وہ کہہ رہے ہمارا پروردگار اللہ ہے اور اگر خدا لوگوں میں سے بعض کے ذریعے بعض کی حفاظت نہ کرتا تو تمام کلیسائیں ، کنیسائیں اور آتش کدے (یعنی عیسائیوں ، یہودیوں اور محبوسیوں کی عبادت گاہیں) اور وہ مسجدیں بھی منہدم کردی جاتیں کہ جہاں اللہ کا نام کثرت سے لیا جاتا ہے۔"انسانی حقوق کے فعال کارکن ڈاکٹر نجیب جبرائیل: آل الشیخ کا فتوی نسل پرستی پر مبنی ہےڈاکٹر نجیب جبرائیل نے آل الشیخ کے فتوے پر اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہ آل الشیخ کا فتوی ادیان کے درمیان گفتگو کے تمام دروازے بند کرنے کی کوشش ہے اور مسلم علماء اور دانشوروں نے جو فضا ادیان کے پیروکاروں کے درمیان گفتگو کے لئے فراہم کی تھی یہ فتوی اس سے کلی طور پر متصادم ہے۔انھوں نے کہا کہ اسلام کی سرزمین ہمیشہ سے صوامع اور گرجاگھروں کے لئے امن و امان کا گہوارہ رہی ہے جبکہ آل الشیخ کا فتوی نسل پرستی پر مبنی ہے۔انھوں نے رابطۃالعالم الاسلامی اور جامعۃ الازہرسے مطالبہ کیا کہ اس قسم کے نسل پرستانہ فتؤوں کا راستہ فوری طور پر روک لیں اور خلیج فارس کی ساحلی ریاستوں کے حکمرانوں سے مطالبہ کیا کہ آل الشیخ کے فتوے پر عملدرآمد کرنے سے پرہیز کریں۔شیخ عبدالحمید الاطرش: آل الشیخ کا فتوی مسلم عیسائی جنگ بھڑکانے کی کوشش ہےالازہر کی فتوی کمیٹی کے سابق سربراہ شیخ عبدالحمید الاطرش نے کہا کہ عرب ممالک ميں گرجاگھر ہمیشہ سے عیسائیوں کی عبادت کے مقامات ہیں اور یہ عبادتگاہیں مساجد کے ساتھ ساتھ قائم و دائم رہی ہیں اور اس وجہ سے ابھی تک کوئی تناؤ دیکھنے میں نہیں آیا ہے اور بے شک ان عبادتگاہوں کے اپنے حقوق بھی ہیں اور ان کے لئے ہم حرمت کے قائل ہیں۔انھوں نے کہا آل الشیخ کے فتوے جیسے فتوے فرقہ وارانہ جنگ اور مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان جنگی صورت حال کی کوشش ہی سمجھے جاتے ہیں۔جوزف ہاشم: مفتی صاحب قرآن کا بغور مطالعہ کرولبنان کے عیسائی شاعر نے بھی وہابیوں کے سربراہ کے معاندانہ فتوے پر رد عمل ظاہر کیا اور سعودی مفتی سے مخاطب ہوکر کہا: مہربانی کرکے قرآن کا بغور مطالعہ کرو۔انھوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پیغمبر رحمت ہیں اور آپ (ص) نے نجران کے عیسائیوں کے ساتھ پرامن بقائے باہمی کے اصولوں کے تحت، حسن سلوک روا رکھا اور جب ایک مسلمان نے ایک عیسائی کو بلاوجہ قتل کیا تو رسول اللہ (ص) قصاص کا حکم دیا چنانچہ ہم وہابی مفتیوں سے پوچھتے ہیں کہ وہ قرآن مجید کی آیات اور رسول اللہ (ص) کی سنت کو نظرانداز کرکے اس طرح کے فتوے کیوں دیتے ہیں؟عالمی اہل بیت (ع) اسمبلیوہابیوں کے نام نہاد عالم اور آل سعود کے مفتی اعظم عبدالعزيز آل الشیخ کا گرجاگھروں کے انہدام پر مبنی غیردانشمندانہ اور غیر عاقلانہ فتوی، اسلام کی نسبت ابراہیمی ادیان کے پیروکاروں کی بدظنی کا سبب بن گیا ہے، اور عالمی اہل بیت (ع) اسمبلی نے اپنے بیان ميں اس فتوے کو بے وقعت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہابی مفتی اور آل سعود کے حکمران حقیقی اسلام اور امت مسلمہ کی نمائندے نہیں ہیں۔ تفصیل کے لئے رجوع کریں:
عالمی اہل بیت (ع) اسمبلی کی طرف سے وہابی مفتی کے غیردانشمندانہ فتوے کی مذمت
آل سعود کے سرکاری مفتی عبدالعزيز آل الشیخ کے فتوے پر بیرونی دنیا میں بھی رد عمل سامنے آرہا ہے:جرمنی، آسٹریا اور روس کے عیسائی اداروں نے آل الشيخ کے فتوے کی مذمت کی اور اس کو علاقے میں لاکھوں بیرونی مزدوروں کے مسلمہ حقوق کا کھلا انکار قرار دیا ہے۔ روس کے آرتھوڈاکس عیسائی کلیساؤں کے سربراہ "مارک یجورفسک" نے آل الشیخ کے فتوے کے باعث تشویش فرار دیا ہے۔انھوں نے کہا: ہمیں امید ہے کہ سعودی عرب کے پڑوسی ممالک سعودی مفتی کے فتوے کو نظرانداز کریں۔جرمن کے بشپس کونسل کے سربراہ "بشپ رابرٹ زولیچ" نے کہا ہے کہ سعودی مفتی ادیان کے پیروکاروں کی پرامن بقائے باہمی پر ذرہ براہر یقین نہيں رکھتا اور اگر خلیج فارس کی ساحلی ریاستوں میں گنے چنے گرجاگھروں کو منہدم کیا جائے تو ان ریاستوں میں مقیم لاکھوں عیسائیوں پر کاری ضرب لگ جائے گی۔انھوں نے کہا کہ خلیج فارس کی ساحلی ریاستوں اور سعودی عرب میں کم از کم 30 لاکھ عیسائی بیرونی ممالک سے آکر مقیم ہوئے جن کی اکثریت کا تعلق بھارت اور فلپائن سے ہے۔ ان ریاستوں میں ہزاروں امریکی اور یورپی باشندے میں مقیم ہیں اور سعودی عرب میں اگر عیسائیوں نے کبھی کسی گھر میں اپنے دینی مراسمات بجالانے کی کوشش کی تو گویا انھوں نے اپنے آپ کو شدید خطرے میں ڈال دیا ہے اور انہیں گرفتار کرکے جیلوں میں ڈال دیا جاتا ہے لیکن امارات۔ قطر، بحرین، عمان اور یمن میں عیسائیوں کی کلیسائیں موجود ہیں۔انھوں نے کہا: بے شک آل سعود کے مفتی سعودی بادشاہ کی رائے پوچھے بغیر ایسا فتوی نہیں دے سکتا۔انھوں نے کہا: ہم اس فتوے کو ادیان کے پیروکاروں کے درمیان دینی گفتگو سے متصادم سمجھتے ہیں۔امارات میں کیتھولک کلیساؤں کے نگران "بشپ پل ہنڈر" نے کہا ہے کہ بات اس وقت بہت تشویش کا سبب بنے گی کہ خلیجی ریاستوں کے عوام میں یہ فتوی وسیع سطح پر پھیلادیا جائے۔
واضح رہے کہ مورخہ 9 مارچ کو کویت کے ایک ادارے "جمعیة التراث الاسلامی" کے ایک وفد نے سعودی عرب کے سرکاری مفتی "شيخ عبدالعزيز آل الشيخ" سے ملاقات کی۔ کویتی وفد نے کویتی پارلیمان میں منظور ہونے والے ایک قانون کے بارے میں آل الشیخ سے استفتاء کیا اور قانون کے اسلامی یا غیر اسلامی ہونے کے سلسلے میں ان کی رائے دریافت کی جبکہ یہ قانون کویتی پارلیمان میں منظور ہوچکا ہے اور اس میں عیسائیوں کے گرجاگھروں کے انہدام کو ممنوع قرار دیا گیا ہے۔لیکن، کویتی وفد کی توقعات کے برعکس، آل الشیخ نے ان کے استفتاء کے جواب میں ایک شاذ اور عجیب فتوی دیتے ہوئے کہا: "کویت جزیرة العرب کا حصہ ہے اور جزیرةالعرب میں تمام کلیساؤں (گرجاگھروں) کو منہدم کرنا چاہئے، کیونکہ اس علاقے میں کلیساؤں کی موجودگی درحقیقت ان کی دین کی تصدیق اور تائید سمجھی جاتی ہے اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا ہے کہ: جزيرة العرب میں دو دین اکٹھے نہیں ہوسکتے ہیں"۔ یہ فتوی کچھ دن کی تاخیر سے ذرائع ابلاغ کے ذریعے دنیا بھر میں پھیل گیا اور مسلم اور غیر مسلم ممالک میں اس سے وسیع منفی تاثر لیا گیا۔.........................
/110