23 مارچ 2012 - 19:30

مصری روزنامے نے اپنے اداریئے میں لکھا: سعودی عرب کے عوامی احتجاجاب شدید ابلاغی سینسر کے باوجود ایک حقیقت میں تبدیل ہوچکے ہیں۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق مصری روزنامے "الانوار" کے چیف ایڈیٹر نے لکھا: سعودی عرب کے عوام کی احتجاجی تحریک نے ابلاغی بائیکاٹ کی دیواریں توڑ دی ہیں اور سعودی حکومت کے ہاتھوں گرفتار شخص سے یکجہتی کے اظہار کے طور پر شہریوں کی بڑی تعداد کی طرف سے بھوک ہڑتال اور جدہ اور ریاض میں عوامی مظاہروں کے اعلان کے بعد یہ تحریک نئے مراحل میں تبدیل ہوگئی ہے۔  روزنامہ "الانوار" کے چیف ایڈیٹر "عادل الجوجری" نے اپنے روزنامے کے اداریئے میں لکھا کہ: نظر یوں آتا ہے کہ القطیف سے شروع ہونے والی احتجاجی تحریک خواتین کی ڈرائیونگ کے لئے اٹھنے والی تحریک نسوان، ابہا کی ملک خالد یونیورسٹی کی طالبات کے احتجاجی دھرنوں اور آل سعود کے مخالفین کی بھوک ہڑتال نے آل سعود کے حکام کو تشویش میں مبتلا کردیا ہے۔انھوں نے کہا: آل سعود کے مخالفین نے اپنے اسیر ساتھی "محمد البجادی" ـ جو تین ہفتوں سے جیل میں بھوک ہڑتال پر ہیں ـ سے یکجہتی کے اظہار کے لئے دو دن تک علامتی بھوک ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔انھوں نے کہا: دارالحکومت ریاض کی "حائر" نامی جیل میں پابند سلاسل سیاسی قیدی نہایت دشوار صورت حال میں قید کاٹ رہے ہیں اور اس اذیتکدے کو مخالفین کا سیاسی عزم و ارادہ توڑنے کے مقام میں تبدیل کردیا گیا ہے اور اسی وجہ سے ان اسیروں سے یکجہتی کے طور پر ان کے دوستوں نے دھرنوں، احجاجی مظاہروں اور بھوک ہڑتالوں کا سہارا لیا ہے۔الجوجری نے زور دے کر کہا ہے کہ سعودی عرب میں پہلی مرتبہ بھوک ہڑتال نہیں ہورہی ہے بلکہ اس سے قبل بھی وسیع دھرنوں اور ہڑتالوں کا اہتمام کیا جاچکا ہے اور "انقلاب جزیرۃالعرب خبررسان کمیٹی" کے نام سے اب ایک گروہ بھی ظہور پذیر ہوا ہے جو اسکولوں، کالجوں اور جامعات کے طلبہ اور طالبات کو دھرنوں اور ہڑتالوں کی دعوت دے رہی ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ دریں اثناء سعودی ايئرلائنز کے بعض کارکنوں نے بھی ہڑتال کررکھی ہے تا کہ سعودی ائیرلائنز میں ہونے والی بدعنوانیوں  کے بارے میں تحقیق کرائی جائے اور مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔ انھوں نے کہا: اس سے قبل ایک سال کے دوران الشرقیہ کے علاقے میں احتجاجی مظاہروں اور دھرنوں کا سلسلہ جاری تھا لیکن ان کو ابلاغی بائیکاٹ کا سامنا تھا تا ہم اب یہ سلسلہ منطقۃالشرقیہ کی حدود سے نکل کر پورے ملک میں پھیل گیا ہے چنانچہ اب اس احتجاجی تحریک کا ابلاغی و تشہیری بائیکاٹ آل سعود کے لئے ممکن نہيں رہا ہے اور اب احتجاجی تحریک کو شیعہ تحریک یا فرقہ وارانہ تحریک کا نام دینا ممکن نہيں ہے کیونکہ اب سعودی عرب میں رہنے والے تمام مسلمان اس تحریک کا حصہ بن رہے ہیں۔........

/169-110

تفصیل کے لئے رجوع کیجئے:

بلاد الحرمین میں طلبہ کے احتجاجی مظاہروں ميں اضافہ