ابنا: یہ کانفرنس ایسی حالت میں منعقد کی جا رہی ہے کہ جب موصولہ رپورٹوں سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ فلسطینی پناہ گزین وطن واپسی پر زور دے رہے ہیں۔ اس دو روزہ کانفرنس کا مقصد تقریبا چھ ملین فلسطینی پناہ گزینوں کی مشکلات کے حل میں مدد فراہم کرنا ہے۔ شائع شدہ رپورٹوں سے اس بات کی عکاسی ہوتی ہے کہ فلسطینیوں کی آدھی آبادی پناہ گزینوں پر مشتمل ہے۔ برسلز میں ہونے والی کانفرنس میں شریک افراد نے تاکید کی ہے کہ اسرائيل کا قبضہ فلسطینیوں کے پناہ گزین ہونے کا سلسلہ جاری رہنے کا سبب ہے۔
صہیونی ریاست نے جب سے اپنے قیام کا اعلان کیا ہے اسی وقت سے اس نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کے لۓ فلسطینیوں کو ان کی زمینوں سے بے دخل کرنے کی پالیسی اپنے ایجنڈے میں شامل کر رکھی ہے۔
صہیونی ریاست کی اسی پالیسی کی وجہ سے چھ ملین فلسطینی پناہ گزیں ہوچکے ہیں۔ اسرائیل نے یورپی حکومتوں کی حمایت کے ساتھ فلسطینیوں کو ان کی آبائي سرزمین سے نکالنے کی پالیسی اپنے ایجنڈے میں شامل کی ہے تاکہ فلسطینی علاقوں میں آبادی کا تناسب صیہونیوں کے حق میں کر کے ان علاقوں میں اپنی تسلط پسندانہ پالیسیوں پر عملدرآمد میں تیزی پیدا کر سکے۔ یورپی حکومتوں خصوصا امریکہ نے ، کہ جو صہیونی ریاست کا حامی شمار ہوتا ہے ، صہیونی ریاست کا ساتھ دیتے ہوۓ فلسطینیوں کی وطن واپسی کے حق کو پامال کرنے کے مقصد سے کچھ تجاویز پیش کی ہیں۔ سازش پر مبنی اس طرح کے اقدامات کے ذریعے امریکی حکام فلسطینیوں کو ان ممالک میں ہمیشہ کے لۓ رہائش پر مجبور کرنا چاہتے ہیں جن میں انھوں نے پناہ لے رکھی ہے۔ وطن واپسی سمیت فلسطینیوں کے تمام حقوق کی پامالی پر مبنی صیہونی حکومت کے اقدامات پر عالمی برادری نے وسیع پیمانے پر تنقید کی ہے۔
مسئلہ فلسطین سے متعلق اقوام متحدہ کی قراردادوں خصوصا قرارداد نمبر ایک سو چورانوے میں فلسطینیوں کی وطن واپسی اور ان کو تاوان ادا کۓ جانے کے حق پر تاکید کی گئي ہے۔ صہیونی ریاست نہ صرف فلسطینی پناہ گزینوں کے حقوق کی بازیابی کی مخالف ہے بلکہ اس نے فلسطینی علاقوں پر اپنے حملوں اور فلسطینیوں کے گھروں کے انہدام میں شدت پیدا کر کے عملی طور پر فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کرنے کا عمل تیز کر دیا ہے۔
اس سلسلے میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن نے ایک رپورٹ جاری کر کے فلسطینیوں پر صیہونی فوج کے مظالم کی مذمت کی ہے۔ اس رپورٹ میں آیا ہے کہ اسرائیل نے سنہ دو ہزار گیارہ میں فلسطینیوں کی پانچ سو چوہتر عمارتوں کو منہدم کردیا جن میں سے دو سو تین رہائشی مکانات تھے۔
صہیونی ریاست کے ان اقدامات کے نتیجے میں نو سو ستاون فلسطینی بے گھر ہوگۓ۔ صہیونی ریاست کے اس طرح کے غیر انسانی اقدامات کے نتیجے میں حالیہ برسوں میں فلسطینی پناہ گزینوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔....... /169