20 مارچ 2012 - 20:30

افغانستان ميں امريکي فوجيوں کے ہاتھوں ہونے والے قتل عام کے عيني شاہدين نے بتايا ہے کہ حملہ آور ايک سے زائد تھے-

ابنا: سي اين اين نے ايک ويڈيو فلم نشر کي ہے جس ميں قندھار صوبے ميں ہونے والے حاليہ قتل عام کے شاہدين نے اس واقعے کي تفصيلات بيان کي ہيں- اس ويڈيو ميں عيني شاہدين نے کہا ہے کہ سترہ افغان باشندوں کا قتل عام کرنے والے امريکي فوجي ايک سے زائد تھے-

شاہدين نے کہا ہے کہ امريکيوں نے اچانک ہي ان کے گھروں پر حملہ کر ديا اور طالبان کے اراکين کو تلاش کيا تاہم جيسے ہي گھر کے لوگوں نے کہا ہے کہ انہيں طالبان کے اراکين کے بارے ميں کوئي اطلاع نہيں ہے تو امريکي فوجيوں نے ان کي جانب فائرنگ کردي اور انہوں نے بچوں تک پر رحم نہيں کيا- اس واقعے کے ايک چشم ديد گواہ علي احمد نے کہا کہ سب سے زيادہ وحشيانہ بات يہ تھي کہ امريکي فوجيوں نے دو مہينے کے ايک بچے پر بھي فائرنگ کر کے اسے ہلاک کر ديا-انہوں نے کہا کہ اس قتل عام کے بعد امريکي فوجيوں نے ہلاک شدگان کي لاشوں کو جمع کيا اور انہيں نذر آتش کر ديا-واضح رہے کہ تقريبا دس روز قبل افغانستان ميں تعينات امريکي فوجيوں نے صوبہ قندھار ميں کچھ گھروں پر حملہ کرکے نو بچوں اور ايک خاتون سميت سترہ عام شہريوں کو ہلاک کر ديا تھا-نيٹو کا دعوي ہے کہ اس قتل کا ذمہ دار صرف ايک امريکي فوجي ہے جبکہ عيني شاہدين کا کہنا ہے کہ يہ قتل عام کئي فوجيوں نے مل کر کيا ہے –........

/169