ابنا: رحمان ملک نے اپنے دورہ گلگت کے موقع پر انجمن امامیہ کے چارٹرڈ آف ڈیمانڈ پر عملدرآمد کرنے کی یقین دہانی کراتے ہوئے مقامی انتظامیہ کو نصاب تعلیم کا نوٹفکیشن جاری کرنے کا حکم دیا تھا مگر ایک ہفتہ سے زائد عرصہ گزر جانے کے باوجود نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوا ہے، جس ملت تشیع میں سخت تشویش پائی جارہی ہے۔انہوں نے کہا اگر حکومت نے انجمن امامیہ کے چارٹرڈ آ ف ڈیمانڈ پر فوری عملدرآمد کو یقینی نہیں بنایا خصوصا نصاب تعلیم کا نوٹفکیشن جاری نہیں ہوا تو ملت جعفریہ احتجاج کا حق محفوظ رکھتی ہے، اس لئے حکومت بروقت اقدامات اٹھاتے ہوئے عوامی تشویش کو کم کرے۔
شیعہ علماء کونسل گلگت ڈویژن کا ہنگامی اجلاس شیعہ علماء کونسل گلگت ڈویژن کا ایک ہنگامی اجلاس زیر صدارت شیخ مرزا علی صدر شیعہ علماء کونسل منعقد ہوا.اجلاس میں سانحہ کوہستان کے نتیجہ میں علاقہ کی صورت حال پر غور و خوض کیا گیا۔ ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے شیخ مرزا علی نے کہا کہ سانحہ کوہستان میں ملوث افراد اور سازشکاروں کے حوالے سے حکومت اب تک سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کر رہی ہے اور اس سانحہ کے حوالے سے روایتی بیان بازی اور کھوکھلے دعووں کے علاوہ کچھ سامنے نہیں آیا .اگر حکومت کو اس سانحہ کی حساسیت کا احساس ہوتا تو وقتا فوقتا پیشرفت سے عوام کو آگاہ کرتی جبکہ اس سانحہ کے حوالے سے عوامی صدائے باز گشت واضح ہے کہ کون ملوث ہے کس کی ایماء پر ہوا اور کون پشت پناہی کر رہا ہے اگر اب بھی دہشت گردوں کی حوصلہ شکنی نہیں کی گئی تو دہشت گرد اور اقدامات کرنے کی جرات پیدا کر سکتے ہیں ۔شاہراہ قراقرم پر سفر کرنے والے مسافر اب بھی عدم تحفظ کا شکار ہیں اور حکومتی بے بسی پر نالہ کناں ہیں ۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومت حالات کی نزاکت کا احساس کرتے ہوئے حفظ ما تقدم کی بنیاد پر اقدامات تو کرنے سے درکنار واقعات جنم لینے کے بعد بھی سنجیدہ قدم نہیں اٹھاتی تو ایسی حکومت دوست و دشمن کی پہچان کہاں رکھ سکتی ہے 28فروری سے 11مارچ تک گلگت بلتستان نے قانون کی بالادستی کی تاریخ رقم کر دی جو گلگت بلتستان کے تمام شہریوں کیلئے قابل تقلید ہے اور اس کے بعد قانون کو مجبور کرنے کے عمل میں تیزی آگئی اور حکومت خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہی ہے جو انسان دوست معاشرہ کیلئے قابل افسوس ہے ۔ نصاب تعلیم کا عبوری فارمولہ جو شیعہ ،سنی نمائندگی میں طے پا چکا ہے کا نوٹیفیکیشن جاری کرنا فرقہ وارانہ مسئلہ نہیں خالص حکومتی مسئلہ ہے جس کا سرکاری طور پر اعلان ہو چکا ہے اس میں مزید تاخیر حکومت کی کمزوری ہو گی اور اس کی آڑ میں علاقہ کی فضا کو خدشہ دار بنانے اور نصاب تعلیم کے مسئلہ کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کی کوششیں سماج دشمنی کا مظاہرہ ہوں گی اور اگر حکومت دہشت گرد تنظیموں اور سماج دشمن عناصرکادبائو قبول کرتی ہے تو عوام میں بے چینی کا بڑھنا فطری عمل ہو گا ۔شیخ مرزا علی نے کہا کہ حکومت اس سانحہ میں کچھ خوشگوار پہلوکو بھی مد نظر رکھے جس کے نتیجہ میں 35 کوہستانی مزدوروں کی نگر کے علماء اور عمائدین کی جانب سے بحفاظت واپسی اور سانحہ کے شکار مسافروں میں سے چند مسافروں کی جانب سے دہشت گردی سے نفرت نمایاں طور پر سامنے آئی ہے حکومت اگر دہشت گردوں کی حوصلہ شکنی کرنا چاہتی ہے تو نگر کے علماء اور دہشت گردی سے نفرت کرنے والے مسافروں کی حوصلہ افزائی کرے . اور گلگت بلتستان کے شہریوں سے یہ توقع رکھی جاتی ہے کہ وہ دہشت کردوں کے مسلک کو نہ دیکھیں بلکہ دہشت گردوں کو اپنی صفوں سے نکال باہر کرکے گلگت بلتستان کو دہشت گردی سے پاک بناے کا عملی مظاہرہ کرتے ہوئے وقت کی اہم تریں ضرورت قرار دی جائے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/110